کلاسیس کے آغاز پر فیس میں رعایت دی جائے

   

اولیائے طلبہ کا حکومت سے مطالبہ، طلبہ کو ویکسین کی تجویز
حیدرآباد۔ حکومت نے یکم فروری سے نویں جماعت سے باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے جس پر اولیائے طلبہ ملے جلے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔ اولیائے طلبہ نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ وہ اسکول فیس میں رعایت دیتے ہوئے باقاعدہ کلاسیس کی سہولت فراہم کرے۔ جاریہ سال تقریباً 5 لاکھ طلبہ ایس ایس سی اور 10 لاکھ طلبہ انٹر میڈیٹ امتحانات میں شرکت کرسکتے ہیں۔ اسکول انتظامیہ نے حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ کلاسیس کے آغاز کی صورت میں طلبہ کو امتحانات کی تیاری میں مدد ملے گی۔ خانگی اور سرکاری تمام اسکولوں میں نویں جماعت سے کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس فیصلہ سے قبل کئی کارپوریٹ اسکولس چھٹویں جماعت سے کلاسیس کا آغاز کرچکے ہیں۔ اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ طلبہ پہلے ہی اپنا تعلیمی سال کورونا کے سبب ضائع کرچکے ہیں۔ طلبہ کو امتحانات کے بغیر پرموٹ کیا گیا جس کے نتیجہ میں مسابقت کا جذبہ ختم ہوچکا ہے۔ اولیائے طلبہ نے اسکولوں کے آغاز سے قبل طلبہ کو کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ کلاسیس کے آغاز کی صورت میں کورونا کے پھیلنے کا اندیشہ برقرار ہے لہذا احتیاطی طور پر کورونا ٹیکہ اندازی میں طلبہ کو ترجیح دی جائے۔ حکومت نے جون سے اسکولوں کو آن لائن کلاسیس کی اجازت دی تھی جبکہ ستمبر میں ڈیجیٹل کلاسیس کی اجازت دی گئی۔ اولیائے طلبہ نے شکایت کی ہے کہ آن لائن کلاسیس کے نام پر اسکولوں نے مکمل فیس وصول کی ہے۔