کلبھوشن جادھو کا مقدمہ: بین الاقوامی عدالت کی رولنگ کی ستائش

   

اقوام متحدہ۔/2 نومبر، (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی عدالت میں سزاء یافتہ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کے مقدمہ میں بین الاقوامی عدالت کی طرف سے کئے گئے فیصلہ کا میکسیکو میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت انصاف نے اس مقدمہ کے ذریعہ دفاع اور صفائی کے قانون کو ایک نئی جہت بخشی ہے اور اعادہ کیا کہ ویانا سمجھوتہ کے تحت سفارتی قانونی تعلقات کے قواعدکسی ملک کی پسند یا ناپسند پر منحصر نہیں ہوتے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی یوسف نے اقوام متحدہ کے 193 رکنی ادارہ میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر میکسیکو کی وزارت اُمور خارجہ میں مشیر قانون الیھاندرو سلیوریو نے چہارشنبہ کو کہا کہ’’ بین الاقوامی ہمہ گیر نظام کی کارکردگی کیلئے رکن ممالک کی طرف سے سفارتی و قانونی فرائض و ذمہ داریوں کی موثر تکمیل غیر معمولی اہمیت و افادیت کی حامل ہوتی ہے۔‘‘ بین الاقوامی عدالت انصاف کی بنچ نے اپنی رولنگ میں کہا کہ پاکستان نے جادھو کی گرفتاری کے بعد سفارتی قانونی مدد کیلئے ہندوستانی حقوق کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس عدالت نے ایک کے مقابلہ 15 ووٹوں سے منظورہ اپنی رولنگ میں ہندوستان کے موقف کو جائز قرار دیا۔