کلثوم پورہ میں قطب شاہی خاندان کی تعمیراتی وراثت کوس مینار

   

گولکنڈہ تا مچھلی پٹنم سڑک توسیع کے دوران متعدد فاصلاتی نشانات غائب
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : قطب شاہی خاندان کی تعمیراتی وراثت میں تاریخی کوس مینار شامل ہیں جو تاجروں ، مسافروں اور فوجیوں کی رہنمائی کے لیے گولکنڈہ ، مچھلی پٹنم کے راستے کے ساتھ بنائے گئے ۔ فاصلاتی نشانات ہیں ۔ برسوں کے دوران ان میں سے بہت سے کوس مینار غائب ہوچکے ہیں ۔ جو سڑک کی توسیع کے منصوبوں کے دوران منہدم ہوگئے ہیں ۔ ایک مینار جو بچ گیا وہ کلثوم پورہ میں ہے ۔ حالانکہ یہ اب نظر انداز ہے اور اس کی بحالی کی فوری ضرورت ہے ۔ کلثوم پورہ کوس مینار قطب شاہی مسجد کے قریب واقع ہے ۔ ابراہیم قطب شاہ کے دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ قلعہ گولکنڈہ کی سرحد کی نشاندہی کرتا ہے ۔ مقامی شخص محمد حبیب الدین نے بتایا کہ ایک زمانے میں ایک کامپلکس کا حصہ تھا جس میں مسافروں کے لیے سرائے شامل تھے ۔ آج یہ یادگار ہیرٹیج ڈھانچے کے طور پر بمشکل پہچانی جاسکتی ہے ۔ لاپرواہی کی وجہ سے ارد گرد کے ڈھانچے ختم ہوچکے ہیں ۔ سلطنت کے بانی سلطان قلی قطب شاہ کے زمانے سے حیدرآباد کے مشرق میں جانے والے راستے بادشاہی کی معیشت کے لیے اہم تھے ۔ جو اندرون ملک قلعے کو ساحلی بندرگاہوں سے جوڑتے تھے ۔ جو بین الاقوامی تجارت کو سنبھالتی تھی ۔ فاصلوں کو نشان زد کرنے کے علاوہ یہ نشانات انتظامی کارکردگی اور رابطے کی علامت ہے جو فوجیوں کی نقل و حرکت میں مدد کرتے ہیں ۔ تجارتی راستوں کو محفوظ بناتے ہیں اور مسافروں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ مورخین کا کہنا ہے کہ جڑواں کوس مینار کبھی گولکنڈہ اور مچھلی پٹنم کے درمیان پھیلے ہوئے تھے ۔ لیکن زیادہ تر جدید بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے دوران تباہ ہوچکے ہیں ۔ ایک کوس مینار پرانی شاہراہ پر سرور نگر کے قریب تھا اور دوسرا سلطان نگر کے قریب دونوں سڑک کی تووسیع کی وجہ سے کھو گئے ۔ یہ ڈھانچے چھوٹے ہیں اور جدید منصوبوں کے تحت آسانی سے محفوظ کئے جاسکتے ہیں ۔ لیکن حکام ان کی حفاظت کے بجائے منہدم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ماہرین آثار قدیمہ اور مورخین نے بتایا کہ کئی کوس مینار کبھی کاروان ، حیات نگر ، الماس پیٹ اور چوٹ اپل جیسے علاقوں میں موجود تھے ۔ بیداری اور منصوبہ بندی کی کمی کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچا ہے ۔ گولکنڈہ ۔ مچھلی پٹنم راستہ جسے بندر روڈ بھی کہا جاتا ہے تجارت اور فوج کی نقل و حرکت کے لیے کام کرتا تھا ۔ جسے مقامی طور پر دنڈو باٹا کہا جاتا ہے ۔ دنڈو میلارم کے بعد یہ مینار ہر دس میل پر نمودار ہوئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈھانچے پہلی بار 1520 کی دہائی میں بنائے گئے تھے اور آنے والے حکمرانوں نے وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مزید اضافہ کیا ۔۔ ش