کلکٹر رنگاریڈی اور 6 عہدیداروں کو ہائی کورٹ نے قید کی سزا دی

   

12 سال سے عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر عدالت کی برہمی

حیدرآباد۔یکم؍ اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کلکٹر رنگاریڈی کے بشمول 6 عہدیداروں کو توہین عدالت کے معاملہ میں 6 ماہ کی قید کی سزاء سنائی ہے۔ کلکٹر رنگاریڈی کے علاوہ کنزرویٹر آف فاریسٹ اور 4 دیگر عہدیداروں کو یہ سزاء سنائی گئی۔ ہائی کورٹ نے 12 سال قبل جو احکامات جاری کئے تھے ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ اس معاملہ میں عدالت نے اسپیشل چیف سکریٹری فاریسٹ، پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ، چیف وائیلڈ لائف وارڈن، کلکٹر رنگاریڈی، ایڈیشنل کلکٹر اور ڈیویژنل فاریسٹ آفیسر رنگاریڈی کو قصوروار قراردیتے ہوئے سزاء سنائی گئی۔ سزاء قید کے علاوہ ہرعہدیدار کو 2 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ جسٹس ٹی امرناتھ گوڑ نے 2015 میں دائر کردہ توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے یہ سزاء دی ہے۔ درخواست گذار نے شکایت کی کہ عہدیدار جان بوجھ کر عدالتی احکامات کو نظرانداز کررہے ہیں۔ مہیشورم کے سروے نمبر 222 کے تحت 383 ایکر اراضی کے سلسلہ میں عدالت نے 4 ڈسمبر 2009 کو احکامات جاری کئے تھے۔ ریزرو فاریسٹ کیلئے اراضی کے حصول کے سلسلہ میں بعض مالکین نے اراضی کے معاوضہ میں اراضی کی درخواست کی تھی جس کے عوض میں عدالت نے 1.15 کروڑ معاوضہ کی ہدایت دی تھی۔ ریوینو اور فاریسٹ عہدیداروں نے اس فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا تھا۔ یہ معاملہ جب توہین عدالت کی درخواست کے تحت دوبارہ ہائی کورٹ پہنچا تو جسٹس امرناتھ گوڑ نے عہدیداروں کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔