کلکٹر سدی پیٹ وینکٹ رام ریڈی نے استعفیٰ دے دیا

   

عنقریب برسر اقتدار ٹی آر ایس میں شمولیت، قانون ساز کونسل کی رکنیت کا امکان
حیدرآباد۔15۔نومبر (سیاست نیوز) ریاست میں ایم ایل سی نشستوں کیلئے ٹی آر ایس امیدوار کے انتخاب کی سرگرمیوں کے دوران کلکٹر سدی پیٹ وینکٹ رام ریڈی نے اچانک اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا۔ چیف سکریٹری سومیش کمار کو وینکٹ رام ریڈی نے اپنا استعفیٰ حوالے کیا اور اسے فوری طور پر منظوری دیتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وینکٹ رام ریڈی جن کی وظیفہ پر سبکدوشی عنقریب ہے، انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے ۔ پارٹی انہیں ایم ایل سی نشست کیلئے امیدوار کے طور پر اعلان کرسکتی ہے ۔ وینکٹ رام ریڈی ابتداء ہی سے برسر اقتدار پارٹی سے قربت کے نتیجہ میں اپوزیشن کے نشانہ پر رہے۔ وینکٹ رام ریڈی کا تعلق پدا پلی ضلع سے ہے اور 1991 ء میں گروپ I عہدیدار کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا تھا ۔ چتور اور تروپتی میں آر ڈی او کی حیثیت سے خدمات انجام دی ۔ میدک ضلع میں پراجکٹ ڈائرکٹر کی حیثیت سے فرائز انجام دیئے ۔ وینکٹ رام ریڈی حڈا میں سکریٹری ، جی ایچ ایم سی میں زونل کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد سنگا ریڈی اور پھر سدی پیٹ کلکٹر کے عہدہ پر فائز رہے۔ انہوں نے 7 برسوں تک جوائنٹ کلکٹر اور کلکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے ٹی آر ایس حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی تھی کہ وینکٹ رام ریڈی کو ایم ایل سی کا ٹکٹ دیا جائے گا ۔ کلکٹر کی حیثیت سے استعفیٰ کے بعد ان قیاس آرائیوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ استعفیٰ کی منظوری کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ رام ریڈی نے کہا کہ انہوں نے دو دہوں سے زائد تک مختلف حکومتوں کے تحت کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی فلاحی اسکیمات ملک کیلئے مثالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کی جانب سے جب بھی مدعو کیا جائے گا وہ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے ۔ انہوں نے عنقریب ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ریاست کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔ کلکٹر سے کونسل ہال تک کے سفر میں وینکٹ رام ریڈی کو کئی تنازعات سے گزرنا پڑا۔ حال ہی میں انہوں نے دھان کے بیج کی فروخت بند کرنے کیلئے ڈیلرس کے ساتھ اجلاس میں انتباہ دیا تھا کہ اگر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے احکامات بھی حاصل کرلئے جائیں تب بھی وہ ڈیلر شپ بحال نہیں کریں گے ۔ بعد میں انہوں نے وضاحت کی اور کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔ وینکٹ رام ریڈی نے کہا کہ کے سی آر حکومت عوام کی بھلائی کیلئے کام کر رہی ہے اور سارے ملک کی نظریں تلنگانہ کی طرف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی مساعی میں حصہ دار بننے کیلئے وہ ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 100 برسوں تک عوام تلنگانہ کی ترقی کے بارے میں تذکرہ کرتے رہیں گے۔ ر