وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،ٹی آر ایس کا کل مخالف مرکز احتجاج
حیدرآباد۔/10 نومبر، ( سیاست نیوز) سیاست میں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ سیاسی جماعتوں کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر قائدین کو اپنے موقف میں تبدیلی پر شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ حضورآباد کے ضمنی چناؤ میں شکست کے بعد سے ٹی آر ایس کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے عوامی مسائل پر احتجاج کیلئے اندرا پارک پر واقع دھرنا چوک کو ختم کردیا تھا جسے تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت بحال کیا گیا۔ دو سال قبل جس پارٹی اور اس کی حکومت نے دھرنا چوک کی مخالفت کی تھی آج وہی پارٹی دھرنا چوک پر مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کی تیاری کررہی ہے۔ کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز پر دباؤ بنانے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جمعہ سے ہر اسمبلی حلقہ میں احتجاج کا اعلان کیا۔ پارٹی نے حیدرآباد میں دھرنا چوک پر مرکزی احتجاج کی تیاری کرلی ہے۔ ریاستی وزراء سرینواس یادو، محمد محمود علی اور دیگر قائدین نے دھرنا چوک پہنچ کر انتظامات کا جائزہ لیا۔ جس وقت وہ دھرنا چوک پر احتجاج کے انتظامات کو قطعیت دے رہے تھے میڈیا کے نمائندوں نے انہیں یاد دلایا کہ دو سال قبل ٹی آر ایس حکومت نے دھرنا چوک کو ختم کردیا تھا اب اسی پارٹی کو احتجاج کیلئے دھرنا چوک کا انتخاب کرنا پڑا ہے۔ ٹی آر ایس قائدین اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کرتے رہے۔ دھرنا چوک پر 12 نومبر کو گریٹر حیدرآباد ٹی آر ایس کی جانب سے احتجاج منظم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جون 2018 میں کے سی آر حکومت نے دھرنا چوک کو ختم کردیا تھا اور شہر کے مضافاتی علاقوں سرور نگر ، میڑچل اور گھٹکیسر میں اپوزیشن کو احتجاج کا مشورہ دیا تھا۔ حکومت نے ماحولیاتی، صوتی آلودگی کے علاوہ دھرنا چوک کے اطراف تعلیمی اداروں اور ہاسپٹلس کی موجودگی کا بہانہ بنایا تھا۔ اب جبکہ خود ٹی آر ایس نے دھرنا چوک کو احتجاج کیلئے منتخب کیا ہے تو وہ اپنے سابقہ دلائل کو فراموش کرچکی ہے۔ نومبر 2018 میں چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے حکومت کو دھرنا چوک پر احتجاج کی اجازت دینے کی ہدایت دی۔ ایک سال تک حکومت نے عدالت میں حلف نامہ داخل نہیں کیا جس پر ہائی کورٹ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ ٹی آر ایس قائدین کا ماننا ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں پہلی مرتبہ پارٹی احتجاج کیلئے دھرنا چوک کا استعمال کررہی ہے۔ر