وادی کشمیر بدستور اضافی فوج کو ٹہرایا گیا ہے جس عام زندگی مفلوج ہے، کل ہندوستان کی فوج کشمیر کے داخلہ کی سالگرہ کے موقع پر علیحدگی پسندوں کے ہڑتال کے مدنظر سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، سرینگر کی دکانوں میں قفل لگا ہوا ہے، اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔
کشمیری حکام نے علیحدگی پسندوں کی کل جماعتی کانفرنس کے پیش نظر حساس علاقوں میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ شہر کے تجارتی مرکز لالچوک کو خاردار تاروں سے بند کردیا گیا ہے کیونکہ سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس نے لوگوں کو لال چوک کی جانب مارچ کرنے کی اپیل کی تھی۔
علیحدگی پسند لوگ گذشتہ 3 دھائیوں سے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے آ رہے ہیں، مگر مواصلاتی نظام کی پابندی کی وجہ سے اور لیڈران کے نظر بند رہنے کی وجہ سے اس سال باضابطہ طور پر کوئی پروگرام نہیں کیا جاسکا۔
مگر ہفتہ کے دن ایک مقامی خبر رساں ادارے کو حریت کانفرنس کا ایک پریس ریلیز ای میل کے ذریعے بھیجاگیا ہے جس میں عوام سے ہڑتال کے ساتھ ساتھ پُر امن طور لال چوک کی جانب پیش قدمی کرنے اور خاموش احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔کشمیر میں پہلی بار ہندوستان کی فوج1947 میں 27 اکتوبر کے روز ہی آئی تھی اور سرینگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کیا تھا۔ اس وقت پاکستان سے آئے ہوئے قبائلی حملہ آور ہوائی اڈے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ بعدازاں ایک لمبی لڑائی کے بعد ان حملہ آوروں کو واپس ڈھکیل دیا گیا تھا۔ہندوستان کی فوج کی آمد، جموں میں مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے دستاویز الحاق پر دستخطوں کے ایک دن بعد ہوئی۔ ہری سنگھ،اسی روز اپنے معتمدین سمیت کشمیر سے بھاگ کر جموں پہنچ گئے ۔
