کل ریاستی بجٹ، بھٹی وکرامارکا 3.20 لاکھ کروڑ کا موازنہ پیش کریں گے

   

جاریہ بجٹ میں 5 فیصد کا اضافہ، کالج طالبات کو الیکٹرک اسکوٹی، پنشن اور شادی مبارک کی رقومات میں اضافے کا امکان

حیدرآباد۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا توقع ہے کہ 20 مارچ کو تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں 3.20 لاکھ کروڑ پر مشتمل بجٹ برائے مالیاتی سال 2026-27 پیش کریں گے۔ ریاست کی مالی صورتحال کو بہتر بنانے اور آمدنی میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت نے جاریہ سال کے مقابلے بجٹ میں 5 تا 7 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ مالیاتی سال 2025-26 میں 304965 کروڑ کا بجٹ پیش کیا گیا تھا۔ جاریہ بجٹ میں 5 تا 7 فیصد اضافے کے ذریعہ بھٹی وکرامارکا 3.20 لاکھ کروڑ کا ریاستی موازنہ پیش کرسکتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تمام محکمہ جات سے مشاورت اور فلاحی اسکیمات کے لئے درکار فنڈس کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجٹ کو قطعیت دی گئی۔ حکومت بجٹ میں بعض نئے وعدوں کی تکمیل کو شامل کرسکتی ہے جن میں کالج کی طالبات کے لئے الیکٹرک بائیک کی تقسیم، پنشن کی رقم میں اضافہ، کلیان لکشمی اور شادی مبارک کے تحت امدادی رقم میں 50 ہزار روپے اضافہ کی تجویز شامل ہے۔ کانگریس پارٹی نے انتخابات سے قبل عوام سے جو وعدے کئے تھے ان میں کئی وعدے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کو ماہانہ 2500 روپے کی امداد سے متعلق وعدہ پر مرحلہ وار عمل آوری کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ توقع ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کریں گے اور بجٹ میں فنڈس کی گنجائش فراہم کی جائے گی۔ ریاستی کابینہ کا اجلاس 20 مارچ کی صبح 9:30 بجے اسمبلی کے کمیٹی ہال میں طلب کیا گیا ہے جس میں بجٹ کو رسمی طور پر منظوری دی جائے گی۔ اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا جبکہ قانون ساز کونسل میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو بجٹ پیش کریں گے۔ بجٹ کو قطعیت دینے سے قبل جاریہ بجٹ کی منظوریوں اور خرچ کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر 73.37 فیصد بجٹ خرچ کیا گیا جس کی مالیت 193313 کروڑ ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل جاریہ بجٹ کے زیر التواء بلز جاری کردیئے جائیں گے۔ گزشتہ 2 برسوں میں حکو مت نے آمدنی میں اضافے کے لئے کئی اقدامات کئے۔ بی آر ایس حکومت کے قرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حکومت کی آمدنی میں اضافے کی حکمت عملی پر عمل کیا جارہا ہے۔ 1