ہماری ترقی کے لیے ہمارا ڈیٹا بینک ہونا اشد ضروری ، عامر علی خاں اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( راست ) : کل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی کا سالانہ سمینار بعنوان ’ خدمت خلق نہج البلاغہ کی روشنی میں ‘ 4 جنوری کو شام نور خاں بازار میں نو تعمیر شدہ عمارت ’ لائٹ ہاوز ‘ میں منعقد ہوا ۔ سمینار کا آغاز جناب سید تمجید حیدر کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا صدر سوسائٹی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور سوسائٹی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ شیخ سعدی نے کہا کہ خدمت خلق ہی حقیقی عبادت ہے ۔ انہوں نے لائٹ ہاوز اور دی اسٹار اسکول کے تعمیر کرنے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح ان خیر خواہوں نے ان جدید عمارتوں کو اپنے خود کے دفاتر سے بہتر تعمیر کر کے صحیح معنوں میں سخاوت کا ثبوت دیا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کس طرح اخبار سیاست میں پچھلے 2 سال سے زیادہ عرصہ سے اقوال حضرت علیؓ شائع کیے جارہے ہیں جو حقیقت میں ایک خدمت ہے ۔ جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے زور دیا کہ مسلمانوں کا ایک ڈیٹا بنک ہونا چاہئے اور اس سلسلہ میں انہوں نے اپنی خدمات بھی پیش کی ۔ آپ نے اصرار کیا کہ جب مسلمان ایک شہری ہونے کے ناطہ حکومت کا ٹیکس ادا کرتا ہے تو اس کا حق بنتا ہے کہ وہ حکومت کی اسکیمات سے بھی فائدہ اٹھائے لیکن ہمارے پاس ہماری خود کی تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان فائدوں سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ آپ نے کہا کہ ہم مسلمان گھر میں پیدا تو ہوگئے لیکن ابھی اپنے عمل اور کردار سے اپنے کو مسلمان ثابت کرنا باقی ہے ۔ عالم اسلام میں ہونے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خصوصاً جب کہ امریکہ مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے ، جناب عامر علی خاں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید ، احادیث پیغمبر اور حضرت علیؓ کے اقوال پر عمل کر کے دنیا کو بتائے کہ صحیح مسلمان کیسے ہوتا ہے ۔ خصوصیت کے ساتھ پرانے شہر کے مسلمانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ اتنے سالوں سے ، اتنے سارے مسلمان ، زکواۃ نکالنے کے بعد بھی اگر مسلمانوں میں اس حد تک غربت موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زکواۃ صحیح مستحق تک نہیں پہونچ رہی ہے ۔ پروفیسر پیرزادہ امین صدر شعبہ سوشیالوجی ، کشمیر یونیورسٹی نے کہا کہ ہم اُس سماج اور اُس تمدن سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ساری دنیا کو ایک ڈائرکشن دیا ہے ، لیکن آج جب اقوام عالم پر نظر پڑتی ہے تو ایسے لگتا ہے کہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور ہم بہت پیچھے رہ گئے ۔ مولانا آزاد ، ڈاکٹر ذاکر حسین ، علی برادران کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ خدمت خلق کو جو انہوں نے سمجھا تھا اس کو انہوں نے تحریک آزادی ہندوستان میں تبدیل کیا ۔پچھلے 70 سالوں سے کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک جتنے بھی مسلمان دانشور ابھرے وہ ان اداروں سے رہے جن کی بنیاد ان عظیم مسلمان شخصیتوں نے رکھی تھی لیکن افسوس یہ ہے کہ پھر اس کے بعد نہ ایسی کوئی شخصیت ابھر کر آئی اور نہ ہم کو کوئی ایسی فکر یا ایسا جذبہ دینے والا رہا جس کی وجہ سے مسلمانوں میں لیڈر شپ کا ایک خلا پیدا ہوگیا جس کی سزا آج ہم سب بھگت رہے ہیں ۔ پروفیسر سید مہدی موسوی ، کلچرل اٹیچی ، سفارت خانہ ایران ، دہلی نے کہا کہ قرآن مجید کے بعد نہج البلاغہ ہی وہ کتاب ہے کہ جس سے دنیا کے ہر دانشور نے استفادہ کیا ہے اور موجودہ دور کے مسائل کو بھی حل کرنے کے لیے ان ہی ذخائر سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ کتابیں صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں ۔ عیسائی محقق جارج برداق سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ صرف حضرت علی ؓ کے عدالتی نظام سے متاثر ہو کر اس عیسائی نے ایک عظیم الشان کتاب صوت عدالتہ الانسانیہ تحریر کردی جو اس وقت تمام دنیا کے زبانوں میں نہ صرف ترجمہ ہوچکی بلکہ لوگ اس سے ہدایت بھی حاصل کرتے ہیں اور خود جارج برداق کا کہنا ہے کہ میں نے کئی مصنفین اور دانشور حضرات کو پڑھا اور سنا ہے لیکن جس طریقہ سے عدالتی نظام کو میں نے حضرت علی ؓ کے خطبات میں پایا ، وہ اور کہیں نہیں دیکھا ۔ ڈاکٹر علی چیغی ، سفیر اسلامی جمہوریہ ایران متعینہ نئی دہلی ، ناگزیر وجوہات کی بنا پر سمینار میں شرکت کرنے سے قاصر رہے لیکن آپ نے اپنا ایک تفصیلی پیغام بذریعہ عزت مآب محمد حق بین قمی ، کانسلٹ جنرل اسلامی جمہوریہ اسلام متعینہ حیدرآباد پہونچایا جسے عنقریب مکمل طور پر شایع کیا جائے گا ۔ آخر میں جناب تقی عسکری ولا سکریٹری سوسائٹی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ جناب سید تمجید حیدر نے سمینار کی کارروائی چلائی ۔ اور آنے والے مہمانوں نے ’ لائٹ ہاوز ‘ کا مکمل مشاہدہ کیا ۔۔