مراٹھواڑہ اور اطراف کے اضلاع میں پھر لوٹ سکتے ہیں وہی کانگریس کے سہانے دن
اورنگ آباد ۔ 19 ۔ اکٹوبر : وزارتی درجہ کے سابق وزیر کمال فاروقی اور ان کے فرزند بیرسٹر عمر کمال فاروقی گذشتہ روز کانگریس میں شامل ہو گئے۔ 2004 میں کانگریس کو خیرآباد کہنے کے بعد اب تک وہ راشٹروادی کانگریس پارٹی سے وابستہ تھے۔ ممبئی کے تلک بھون میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران کمال فاروقی اور بیرسٹر عمر فاروقی نے مہاراشٹر کے AICC کے مبصر رمیش چیننی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجئے وڈیٹیوار، سابق وزیراعلی سشیل کمار شندے، پرتھوی راج چوہان، AICC کے جنرل سکریٹری مکل واسنک، گوا کے مبصر مانک راؤ ٹھاکرے، کانگریس ورکنگ کمیٹی رکن اور مہاراشٹر کے نائب صدر نسیم خان، ممبر پارلیمنٹ چندرکانت ہنڈورے اور ممبئی کانگریس صدر ورشا تائی گائیکواڑ کی موجودگی میں کانگریس میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۔ ملک و مہاراشٹر کے موجودہ سیاسی حالات میں کمال فاروقی اور بیرسٹر عمر فاروقی کے کانگریس میں شامل ہونے کے سبب پارٹی کو نئی قوت حاصل ہوئی ہے۔ بالخصوص عمر فاروقی کی شکل میں کانگریس کو ایک تازہ دم نوجوان قیادت نصیب ہوئی ہے۔ مہاراشٹر کانگریس میں فی الحال عمر کمال فاروقی واحد بیرسٹر ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ مرحوم عبدالرحمن انتولے کے بعد بیرسٹر عمر فاروقی کا ساتھ ملنے سے کانگریس کو یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔ نوجوانوں کو کانگریس کی طرف راغب کرنے اور پارٹی کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے میں بیرسٹر عمر کمال فاروقی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جہاں تک کمال فاروقی کا سوال ہے، 1978 میں وہ کانگریس سے وابستہ ہوئے تھے۔ پارٹی کے وفادار ممبران میں کمال فاروقی کا شمار کیا جاتا تھا۔ قائدانہ صلاحیتوں اور جارحانہ عوامی نمائندگی کے پیش نظر کانگریس اعلیٰ کمان نے کمال فاروقی کو وزیر کا درجہ رکھنے والے مہاراشٹر مائناریٹی کمیشن چیئرمن جیسے باوقار عہدہ کی اہم ترین ذمہ داری بھی سونپی تھی۔ اس عہدہ کے فرائض کو بھی کمال فاروقی نے باکمال طریقہ سے انجام دیا۔ لیکن نظریاتی اختلافات کے سبب کمال فاروقی کانگریس کو چھوڑ کر شرد پوار کی قیادت کو قبول کرتے ہوئے راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ این سی پی میں بھی انھیں اہم مقام حاصل رہا۔ اس دوران کمال فاروقی اور ان کے فرزند بیرسٹر عمر فاروقی نے سیاست ہی نہیں دیگر متعدد شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اپنی ملنساری اور موثر نمائندگی کے باعث کمال فاروقی اور عمر فاروقی ریاستی سطح پر مقبول ہیں۔ کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں میں بھی انھیں عزت کی نگاہِ سے دیکھا جاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ ایسے سنگین حالات میں جبکہ مسلمان کانگریس سے دور ہوتے جارہے ہیں، بیرسٹر عمر فاروقی اور ان کے والد کمال فاروقی کے دوبارہ کانگریس میں لوٹنے سے پارٹی کو تقویت حاصل ہوگی۔ خاص طور پر نئی نسل کانگریس سے بڑی تعداد میں وابستہ ہوں گے۔ کمال فاروقی سیاست کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ وقت کی نبض پہچاننے کے ہنر سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ موجودہ حالات میں یقینی طور پر کمال فاروقی اور بیرسٹر عمر فاروقی کانگریس کی نئی طاقت بن کر ابھریں گے، یہی سبھی کو توقع ہے۔