۔83.5 بلین ڈالر کی ٹیکس چوری ، امریکی تھنک ٹینک
حیدرآباد۔4مارچ(سیاست نیوز) ہندستان دنیا بھر میں تیسرا ایسا ملک ہے جہاں ٹیکس چوری کے ذریعہ کروڑہا روپئے کی دھوکہ دہی انجام دی جاتی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک گلوبل فینانشل انٹییگریٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندستان میں سالانہ 83.5بلین ڈالر کی رقم تجارتی ٹیکس سے بچائی جاتی ہے جس پر ٹیکس ادا نہیں کیاجاتا۔ اس رپور ٹ میں ہندستان کو ٹیکس چوری کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرا مقام فراہم کیا گیا ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ غیر قانونی طریقہ سے رقمی لین دین کے ذریعہ ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہندستان میں یہ رقمی معاملتیں 83.5بلین تک پہنچ چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس چوری کے ذریعہ حاصل کی جانے والی دولت سرمایہ کاری کے علاوہ دیگر زمروں میں ہندستان کے باہر منتقل کرنے کے علاوہ ملک میں ہی بے نامی سرمایہ کاری کے طور پر جائیدادوں کی خریدی اور فرضی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والی دولت کو دیگر ان ممالک میں روانہ کیا جاتا ہے جہاں ٹیکس کی معاملتوں اور بیرونی سرمایہ کاری پر ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔بتایاجاتا ہے کہ غیر مجاز و غیر قانونی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ رشوت‘ تجارتی ٹیکس میں دھاندلی اور زرمبادلہ کے نام پر کئے جانے والے رقمی لین دین ہیں۔ اس رپور ٹ کو جاری کرنے والے ادارہ نے دعوی کیا ہے کہ سرکاری ٹیکس چوری کے ذریعہ اتنی بڑی رقومات کی منتقلی اور سرمایہ کاری ہندستان میں بتدریج آسان ہوتی جا رہی ہے اسی لئے دنیا بھر میں ہندستان کو اس فہرست میں تیسرے نمبر کا مقام حاصل ہوا ہے۔ ٹیکس چوری کے علاوہ رشوت کے ذریعہ حاصل کی جانے والی آمدنی اور ایسی آمدنی جس کے ذرائع کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا وہ رقومات 83.5 بلین تک پہنچ چکی ہیں۔