حیدرآباد۔24۔مارچ(سیاست نیوز) کمرشیل گیس کی قلت نے ریاست میں لکڑی کی قیمت کو دوگنا کردیا ہے اور آئندہ چند یوم میں لکڑی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے کیونکہ کمرشیل گیس کی قلت کے ساتھ کئی ہوٹلوں و ریستوراں ؤ ہاسٹلس میں جہاں سہولت دستیاب ہے پکوان لکڑی کے چولہوں پر شروع کیا جاچکا ہے۔ گیس کی قلت سے قبل لکڑی کی قیمت 700 روپئے فی کنٹل تھی لیکن اب لکڑی 1500تا1800 روپئے کنٹل فروخت کی جا رہی ہے اور کمرشیل گیس سیلنڈرس کی قلت اور کالابازاری کے نتیجہ میں 5500تا6000 روپئے میں سیلنڈر فروخت ہو رہے ہیںجس کے نتیجہ میں چھوٹے ریستوران اور ہوٹلس بند ہونے لگے ہیں۔ 2 ہفتہ قبل جو اعداد وشمار حاصل ہوئے تھے ان کے مطابق زائد از 2 ہزار چھوٹے مراکز اشیائے خورد ونوش بند ہوچکے تھے اور بڑے کاروبار جاری تھے لیکن عیدالفطر کے بعد کئی ریستوراں اور ہوٹلوں کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہونے لگا ہے حالانکہ ریستوراں و ہوٹلوں کی جانب سے ’مینو‘ میں تخفیف کرکے گیس کی قلت پر قابو پانے کوشش کی گئی تھی لیکن ہوٹل مالکین اور اسوسی ایشن ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ کمرشیل سیلنڈرس کی سربراہی نہ ہونے سے وہ اب کاروبار بند کرنے مجبور ہیں ۔ ہوٹل و ریستوراں کے کاروبار اگر بند کئے جاتے ہیں تو لاکھوں نوجوانوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اس صنعت پر لاکھوں افراد کا روزگار منحصرہے جو کہ اس صنعت کے متاثر ہونے سے شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔3