معاملہ کو دبانے پولیس اور انتظامیہ کے غلط استعمال کا الزام
نئی دہلی: ہاتھرس کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنے جرم کے معاملے پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ڈولی شرما نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اس معاملے میں مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ پارٹی قائدین راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے متاثرہ خاندان کیلئے انصاف کی مسلسل التجا کی۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک دلت خاندان کی نابالغ بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی اور اس کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کی کمزور تفتیش کی وجہ سے استغاثہ عدالت میں گینگ ریپ کا الزام ثابت نہیں کر سکا۔ڈولی شرما نے مزید کہا کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ اتر پردیش کی بی جے پی یونٹ نے شروع سے ہی اس معاملے کو دبانے کیلئے پولیس اور انتظامیہ کا کتنا غلط استعمال کیا تھا۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو ہاتھرس جانے سے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ میڈیا کو بھی وہاں سے نکالنے کی کوشش ہوئی۔ڈولی شرما نے کہا کہ معاملہ سامنے آتے ہی حکومت کی مشینری ملزم کو بچانے اور معاملے کو دبانے کیلئے اسے ‘سازش’ کا روپ دینے میں مصروف تھی۔ یہاں تک کہا گیا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے اور فسادات کرانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح کے الزامات کے تحت کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور گرفتاریاں بھی کی گئیں۔ ہاتھرس کے اس وقت کے ڈی ایم کا متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالنے کا ویڈیو پورے ملک نے دیکھا۔ ایک طرح سے پورا حکومتی نظام بی جے پی کے کہنے پر متاثرہ خاندان کو ہراساں کرنے اور ملزمین کو بچانے میں لگا ہوا تھا۔ڈولی شرما نے کہا کہ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ متاثرہ لڑکی کا آخری بیان جسے قانونی زبان میں ’ڈائینگ ڈیکلریشن‘ کہا جاتا ہے، جس میں اس نے واضح طور پر اپنے ملزمیں کا نام لیا اور اس ویڈیو کو بھی پورے ملک نے دیکھا۔ اتنا ہی نہیں، سی بی آئی کی چارج شیٹ میں بھی لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بارے میں واضح طور پر بات کی گئی تھی۔ اس سب کے باوجود آخر کار زیادتی کا الزام ثابت نہ ہوسکا، چار میں سے تین ملزمان کا بری ہونا ایک بار پھر ہمارے اس الزام کو ثابت کرتا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے ابتدائی تفتیش میں سنگین غفلت برتی، شواہد کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ہر طرح سے دباؤ ڈالا گیا اور معزز عدالت کے سامنے ایک کمزور استغاثہ پیش کیا گیا، جس کا فائدہ ملزمیں کو ہوا اور متاثرہ کو انصاف نہیں ملا۔