کمسن بچوں کو آسٹریلیائی فوجداری نظام کا سامنا

   

کینبرا ۔ 28 مئی (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلوی حکومت نے کئی ہزار بچوں کو فوجداری نظام میں جھونک رکھا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ بچوں کے قابل سزا جرم کی عمر میں اضافہ کریں۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ آسٹریلیا میں 8300 سے زائد بچوں کو فوجداری الزامات کے تحت سزاؤں کا سامنا ہے۔ جیلوں میں پڑے ایسے بچوں میں 10 سے 13 سال کے بچے بھی شامل ہیں۔ ان ہزاروں بچوں کو آسٹریلوی مالی سال جولائی سن 2018 سے جون سن 2019 کے درمیان جرائم کے انسداد کے لیے وقف فوجداری عدالتی نظام کا سامنا رہا۔سزا پانے والے تقریباً 573 بچے ایسے ہیں جنہیں جرائم سرزد کرنے کے بعد عدالتی شنوائی کے لیے مہاجرین کے کیمپوں میں ہی مقید کر دیا گیا تھا۔ ان میں بیشتر کی عمریں 14 برس سے بھی کم تھیں۔