ونپرتی خانگی ہاسپٹل میں آپریشن کے ذریعہ 9 سوئیاں نکالی گئیں، لاپرواہی کی تحقیقات جاری
ونپرتی۔/4 مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع ونپرتی کے ویپنگنڈلہ منڈل سے تعلق رکھنے والے اشوک کا تین سالہ لڑکا لوکناتھ گزشتہ چار دن سے پیٹ میں درد کی شکایت کرنے پر آر ایم پی ڈاکٹر سے رجوع کرایا گیا۔ آر ایم پی نے ونپرتی جاکر علاج کرانے کا مشورہ دیا۔ ونپرتی کے سدھا نرسنگ ہوم میں ڈاکٹروں نے اس لڑکے کی اسکیاننگ کی اور جسم کے پچھلے حصہ میں 11سوئیاں رہنے کی ڈاکٹروں نے رپورٹ دی اور علاج کیلئے حیدرآباد کے نیلوفر ہاسپٹل سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا۔ لڑکے کے والدین نے لڑکے کو علاج کیلئے نیلوفر ہاسپٹل لے گئے جہاں پر مناسب مشنری نہ ہونے سے عثمانیہ ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں کے لاپرواہی کے مظاہرہ کرنے پر انہوں نے دوبارہ ونپرتی واپس ہوکر سدھا نرسنگ ہوم میں ڈاکٹروں سے منت سماجت کی۔ جس پر سدھا نرسنگ ہوم کے مشہور ڈاکٹر سرینواس ریڈی اور ان کی ٹیم نے مخصوص مشنری کے ذریعہ مسلسل پانچ گھنٹے آپریشن کرتے ہوئے 9 سوئیاں نکالی، باقی دو سوئیاں اجابت کی راہ پر ہونے سے ڈاکٹرس اس کو نہیں نکال سکے۔ فی الحال لڑکے کو کوئی جانی نقصان نہیں۔ ڈاکٹرو ںکا کہنا ہے کہ اگر ان دو سوئیوں کو نکالنے کی کوشش کی جائے تو لڑکا برداشت نہیں کرسکے گا۔ کچھ دنوں بعد اس کو نکالا جائے گا۔ لڑکے کے جسم میں پیوست سرنج کی سوئیاں ہیں۔ یہ سوئیاں لڑکے کے جسم میں کس طرح پیوست ہوئی ہیں اس کی جانکاری کیلئے پولیس تحقیقات میں مصروف ہے۔ پولیس نے والدین کی شکایت پر کیس درج کرلیا ہے اور شک کی بنیاد پر بعض افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی کرن کمار نے ہاسپٹل پہنچ کر لڑکے کی حالت کا جائزہ لیا اور خاطی کوئی بھی ہو اس کو سخت سزا دینے کا لڑکے کے والدین کو تیقن دیا۔ اس آپریشن میں ڈاکٹر سرینواس ریڈی کے ہمراہ ڈاکٹر رامو، ڈاکٹر سنیتا تھے۔
