کونسلنگ فہرست سے نام غائب ، سماجی جہدکار لبنیٰ ثروت کا ردعمل
حیدرآباد۔4 اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں گورنر ایک خاتون ہے‘ چیف جسٹس ایک خاتون ہے اور خودوزیر تعلیم ایک خاتون ہے لیکن اس کے باوجود لڑکیوں کے کالج کو بند کیا جارہاہے۔کملا نہرو پالی ٹیکنک سے امدادی کورسس کے خاتمہ پر محترمہ لبنیٰ ثروت نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں طبقاتی بنیادوں پر شہریوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہاہے اور غریب لڑکیوں کو جو کہ امدادی کورسس میں پالی ٹیکنک میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں انہیں حصول علم سے روکا جانے لگا ہے۔انہو ںنے کہا کہ لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے اقدامات کے بجائے جو ادارے چلائے جا رہے ہیں ان ادارو ںکو بند کیا جا رہاہے جو کہ غربت اور لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہے۔لبنیٰ ثروت نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کو کھلی اراضیات‘ تالابوں کے شکم اور جائیدادیں نظرآرہی ہیں اسی لئے حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ حکومت شادی مبارک ‘ کلیان لکشمی اسکیم کے ذریعہ لڑکیوں کی شادی میں مدد کر رہی ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ان کو قابل بنانے اور تعلیم یافتہ بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کملا نہرو پالی ٹیکنک کو پالی۔سیٹ 2021 کے داخلوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں بتایا کہ جس اندازسے کملا نہرو پالی ٹیکنک کے نام کو کونسلنگ سے حذف کیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست میں حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے جبکہ اس پالی ٹیکنک ادارہ میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور ان میں بیشتر کا تعلق غریب اور متوسط گھرانوں سے ہے اور اگر اس تعلیمی ادارہ کو بندکیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہوجائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی وزیر تعلیم ایک خاتون ہے علاوہ ازیں گورنر تلنگانہ بھی ایک خاتون ہے اسی لئے انہیں فوری طور پر اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے از خود نوٹس لینا چاہئے ۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملہ کا نوٹ لیتے ہوئے اقدامات کریں اور 5اگسٹ سے شروع ہونے والی کونسلنگ میں کملا نہرو پالی ٹیکنک کو شامل کرنے کے علاوہ تمام امدادی کورسس کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔