کملا ہیرس کو شکست دینا زیادہ آسان : ٹرمپ

   

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز امریکی صدارت کے لیے اپنی نائب صدر کملا ہیرس کی امیدواری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر ڈونالڈٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کی قیادت کرنے کا مقصد مزید متعصبانہ انتشار سے بچنا ہے ۔ دوسری طرف ٹرمپ نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ کملا ہیرس کو شکست دینا بائیڈن کے مقابلے میں اور آسان ہوگا۔بائیڈن نے سوشل میڈیاایکس پر کہا کہ آج میں کملا ہیرس کی اس سال ہماری پارٹی کی نامزدگی کے لیے اپنی مکمل حمایت اور توثیق پیش کرنا چاہتا ہوں۔ بائیڈن نے اپنے حامیوں سے کملا ہیرس کی مہم میں چندہ دینے کی اپیل بھی کی۔59 برس کی کملا ہیرس ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں کسی بڑی پارٹی کی کی طرف سے سربراہ مملکت کی امیدوار بننے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن جائیں گی۔ بائیڈن نے اتوار 21 جولائی کو 5 نومبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن کی امیدواری سے اس وقت دستبرداری کا اعلان کردیا جب ان کے ڈیموکریٹک ساتھیوں کا ریپبلکن امیدوار ڈونالڈٹرمپ کو شکست دینے کے لیے ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت پر اعتماد ختم ہو گیا تھا۔بائیڈن نے کہا کہ میں اپنی مدت کے اختتام تک اپنی صدارتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر توجہ دوں گا۔ ان کی مدت 20 جنوری 2025 کو دوپہر کو ختم ہو رہی ہے ۔بائیڈن کی دستبرداری کے بعد سابق امریکی صدر اور آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈٹرمپ نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کملا ہیرس کو ہرانا جو بائیڈن کو شکست دینے سے زیادہ آسان ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کو بائیڈن انتظامیہ کی وجہ سے بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ وہ دوسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کے لائق نہیں ہیں۔ بائیڈن امریکہ کے بدترین صدر ہیں۔