کمل ناتھ کا قبائلی نوجوان کی موت کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ

   

بھوپال، رائسین : مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع میں ایک قبائلی نوجوان کی مشتبہ موت کے معاملے میں سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے منصفانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کمل ناتھ نے آج ایکس کرتے ہوئے کہا کہ سلوانی میں قبائلی نوجوان شری رام آدیواسی کی موت کے معاملے میں لواحقین نے الزام لگایا کہ پولیس نے اسے جوتوں سے مارا اور وہ صبح مردہ پایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس معاملے میں انصاف ہو گا یا معاملہ رفع دفع کردیاجائے گا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ مسٹرچوہان پر زور دیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ رائسن ضلع کے قبائلی اکثریتی ترقیاتی بلاک سلوانی کے گاؤں چین پور میں ایک قبائلی نوجوان کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کے اس معاملے میں متوفی کے والد جگموہن نے الزام لگایا کہ پولیس ان کے بیٹے کو پیٹتے ہوئے تھانے لے گئی۔ اہل خانہ نے بدھ کی صبح نوجوان کو گھر کے باہری کمرے میں مردہ پایا۔ اہل خانہ نے پولیس پر تشدد اور قتل کا الزام لگایا ہے ۔ نوجوان کا پوسٹ مارٹم کل تین ڈاکٹروں کی ٹیم نے کیا جس کے بعد پولیس کی موجودگی میں اس کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔بتایا جا رہا ہے کہ گاؤں چین پور میں جاری ایک مذہبی تقریب میں نوجوان شری رام آدیواسی شراب کے نشے میں ہنگامہ کر رہا تھا۔ سرپنچ کے نمائندے پپو ٹھاکر نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس گاؤں پہنچی اور نوجوان کو پکڑ لیا۔