کمیونزم کیرالا میں غنڈہ گردی میں تبدیل : بھٹی وکرامارک

   

حیدرآباد ۔ 4 اپریل (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ بھٹی وکرامارک نے (کریلم) کیرالا میں کانگریس اور یو ڈی ایف کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے ایل ڈی ایف حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست میں کمیونزم نہیں بلکہ غنڈہ گردی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے انتخابات سے قبل کئے گئے وعدوں کو بڑی حد تک پورا کرلیا ہے۔ اگر کسی کو اس پر شک ہے تو وہ تلنگانہ پہنچ کر خود حقائق کا جائزہ لے سکتے ہیں جہاں وہ بطور وزیرفینانس تمام اعدادوشمار کے ساتھ وضاحت کرنے کو تیار ہے۔ ہفتہ کے روز پٹھانم تھٹیا سمیت کئی علاقوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکراماک نے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کیرالا کی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور ریاست میں نظم و نسق بری طرح متاثر ہوا ہے۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ممالک ہجرت کرنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں جبکہ بزرگ شہری مناسب فلاح و بہبود سے محروم ہیں۔ انہوں نے سبریملا مندر سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ریاست میں کمیونزم نہیں بلکہ غنڈہ گردی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالا کو ہمیشہ سیکولرازم، اعلیٰ تعلیم اور انسانی ترقی کیلئے جانا جاتا تھا لیکن موجودہ حالات میں یہ شناخت متاثر ہوئی ہے۔ کانگریس امن، اچھی حکمرانی اور سیکولرازم کی علمبردار ہے۔ بھٹی وکرامارک نے تلنگانہ حکومت کی فلاحی اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس پر اب تک تقریباً 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1.06 کروڑ خاندانوں کو چاول، 53 لاکھ خاندانوں کو 200 یونٹ تک مفت برقی، کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرض کی معافی، اندراماں ہاؤزنگ اور دیگر فلاحی اسکیمات پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ تلنگانہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرفہرست ہے اور ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ ریزیڈنشیل اسکول جیسے بڑے منصوبے بین الاقوامی معیار کے ساتھ تعمیر کئے جارہے ہیں۔M2Y
اس موقع پر انہوں نے ووٹرس سے اپیل کی کہ وہ 9 اپریل کو منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں یو ڈی ایف امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ بھٹی وکرامارک نے وعدہ کیا کہ اگر یو ڈی ایف کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو طالبات کو ماہانہ 1000 روپئے نوجوانوں کو خودروزگار کیلئے 5 لاکھ روپئے تک بلاسودی قرض اور سماجی پنشن کو 2000 سے بڑھا کر 3000 روپئے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اومن چنڈی کے نام سے بزرگ شہریوں کیلئے 25 لاکھ روپئے کی انشورنس اسکیم متعارف کرانے اور ایک خصوصی وزارت قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جو بزرگوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دے گی۔2