کم خرچ میں مستقل آبپاشی کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش

   

کونڈیرو ریزروائر کو دوسرا کالیشورم بنانے کی کوشش، سدرشن ریڈی کا اظہار خیال

نظام آباد۔ 17 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت کے مشیر پی سدرشن ریڈی نے کہا کہ کم خرچ میں کسانوں کو مستقل آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا حکومت کا بنیادی مقصد ہے، اسی لیے منچیپا۔کونڈیرو ریزروائر کو ’’دوسرا کالیشورم‘‘ بنانے کے عزم کے ساتھ پرانہیتا۔چیویلا منصوبہ کو اس کے اصل ڈیزائن کے مطابق مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نظام آباد رورل کے رکن اسمبلی ڈاکٹر آر۔ بھوپتی ریڈی کے ہمراہ منچیپا میں کونڈیرو چیروو (تالاب) کے مقام کا دورہ کرنے اور منصوبے کے کاموں کا جائزہ لینے کے بعد ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سدرشن ریڈی نے کہا کہ سابق کانگریس حکومت کے دور میں متحدہ ضلع کے عوامی نمائندوں اور کسانوں سے مشاورت کے بعد پرانہیتا۔چیویلا منصوبے کا خاکہ تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 900 کروڑ روپے کی لاگت سے نندی پیٹ منڈل کے بینول سے سارنگاپور تک 20 کلومیٹر طویل سرنگ اور پمپوں کی تنصیب مکمل کی گئی تھی، جبکہ سارنگاپور کے مقام پر مزید 9 کلومیٹر سرنگ، پمپ ہاؤس اور دیگر تعمیراتی کام تقریباً 1200 کروڑ روپے کے تخمینے سے 85 فیصد مکمل کیے جا چکے تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعد کی حکومت میں منصوبے کو ازسرِ نو ڈیزائن کرتے ہوئے اس کی لاگت تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے تک بڑھا دی گئی، جس کے باوجود کسانوں کو ایک ایکڑ زمین تک بھی آبپاشی کا پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے پر 1800 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں حاصل ہوا رکن اسمبلی ڈاکٹر آر۔ بھوپتی ریڈی نے کہا کہ انجینئرنگ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ کم لاگت میں اصل ڈیزائن کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے تکنیکی رپورٹ اور مالی تخمینہ تیار کیا جائے۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد ضلع کے عوامی نمائندوں، ٹی پی سی سی صدر، وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر آبپاشی سے ملاقات کر کے منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں سرکونڈہ، دھرپلی، اندل وائی اور ڈچپلی منڈلوں کی تقریباً 85 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو مستقل آبپاشی کی سہولت میسر آئے گی، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔اس جائزہ دورے میں اردو اکیڈمی کے چیئرمین طاہر بن حمدان، ریاستی تاڈی ٹاپر کارپوریشن کے چیئرمین شیکھر گوڈکے علاوہ دیگر قائدین و عہدیداران موجود تھے۔