کم عمر بچوں کو گرمی کی شدت سے بچانے پانی کا عادی بنائیں

   

دست و قئے اور بخار کی شکایتیں، ماہر اطفال کا مشورہ

حیدرآباد۔8مئی (سیاست نیوز)کم عمر بچوں کو شدید گرمی کی لو سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے علاوہ انہیں زیادہ سے زیادہ پانی کے استعمال کا عادی بنائیں۔دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں گرمی کی شدت میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے دوران بچوں میں دست و قئے کے علاوہ بخار کی شکایات عام ہونے لگی ہیں ۔روزانہ ڈاکٹرس سے رجوع ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کی صورت میں مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جا نے کا خدشہ ہے۔ماہرین اطفال کا کہناہے کہ گرمائی تعطیلات جاری ہیں اور گرمی کی شدت میں اضافہ کے باوجود کھیل کود میں مصروف بچوں کے جسم میں پانی کی کمی کے سبب وہ دست و قئے کے علاوہ بخار میں مبتلاء ہونے لگے ہیں ۔ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ بچو ںکو شدید دھوپ کے اوقات میں گھروں سے نکلنے نہ دیں اور انہیں شکر اور نمک ملاکر پانی استعمال کروائیں تاکہ ان کے جسم میں نمک کی کمی نہ ہو اور وافر مقدار میں پانی کی موجودگی سے لو لگنے کا شکار نہ ہوں۔موسم میں رونما ہونے والی تبدیلی کے اثرات عام طور پر پہلے بچوں پر ہی پڑتے ہیں لیکن گرمی کی شدت اور دھوپ کے علاوہ جسم سے پانی کے اخراج کے شدید منفی اثرات کو بچوں کے جسم جلد قبول کرتے ہیں اورانہیں دست و قئے کے ساتھ بخار کبھی کبھی انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اسی لئے والدین کو چوکنا رہتے ہوئے انہیں دھوپ میں کھیل کود کی سرگرمیوں سے دور رکھنا چاہئے۔م