کم عمر قبائلی لڑکی کا جنسی استحصال ، ہوم گارڈ کو 30 سال قید بامشقت

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔3 ۔اگست (سیاست نیوز) نامپلی میٹرو پولیٹن کورٹ کے فرسٹ ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے کم عمر قبائلی لڑکی کا جنسی استحصال میں ملوث ایک ہوم گارڈ کو30 سال کی قید بامشقت سزا سنائی ۔ تفصیلات کے مطابق جاریہ سال فروری میں تکارام گیٹ پولیس نے سی سی ایس سے وابستہ ایک ہوم گارڈ بی ملک ارجن کو 16 سالہ کم عمر معذور قبائلی لڑکی کی عصمت ریزی کرنے اور اسے حاملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا ۔ پولیس نے اس کیس کی تحقیقات میں شدت پیدا کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے اسقاط حمل کے بعد ڈی این اے ٹسٹ کے لئے فارنسک لیباریٹری کی رائے حاصل کی تھی۔ مذکورہ ہوم گارڈ نے جاریہ سال فروری میں قبائلی لڑکی ساکن تکارام گیٹ کے مکان میں اس وقت داخل ہوکر اس کا جنسی استحصال کیا جب اس کے ماں باپ مکان میں موجود نہیں تھے ۔ لڑکی حاملہ ہونے کے باوجود بھی اس بات کو پوشیدہ رکھنے کے لئے کہا اور اس کا نام بتانے پر سنگین نتائج کا انتباہ دیا تھا۔ فارنسک ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ کم عمر لڑکی کا حمل ہوم گارڈ ملک ارجن کا ہے ۔ ڈی این اے کے تصدیق ہونے کے بعد پولیس نے پوکسو کی خصوصی عدالت و فرسٹ ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر چارج شیٹ داخل کی تھی اور استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش کئے جانے اور فارنسک ماہرین کی ڈی این اے رپورٹ کے پیش نظر ہوم گارڈ بی این ملک ارجن کو 30 سال کی قید بامشقت سزا سنائی ۔ جج شریمتی کے سنیتا نے اپنے فیصلہ میں ہوم گارڈ کو قصوروار پائے جانے پر یہ سزا سنائی ہے۔