قاضی بھی زیرحراست، سوتیلے بھائی کی شکایت پر فلک نما پولیس کی کارروائی
حیدرآباد : کم عمر لڑکی کی ایک ضعیف شخص سے شادی پر فلک نما پولیس نے 7 افراد بشمول خالہ اور دیگر کو گرفتار کرلیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر گجاراؤ بھوپال نے کہا کہ محمد معراج الدین نامی نوجوان نے پولیس فلک نما سے ایک شکایت درج کروائی جس میں کہا کہ اس کی خالہ حور النساء نے اُس کی 16 سالہ سوتیلی بہن ساکن تیگل کنٹہ کی شادی ایک ضعیف شخص سے کردی ۔ اس سلسلہ میں شکایت موصول ہونے پر پولیس فلک نما نے ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور فوری حورالنساء اُس کے شوہر میر فرحت اللہ ، بیٹے میر رحمت اللہ ، محمد عبدالرحمن ، وسیم خان اور شادی کرانے والے قاضی محمد بدیع الدین قادری کو گرفتار کرلیا ۔ شادی کرنے والا شخص عبداللطیف پارمبن مفرور ہے ۔ ڈی سی پی نے کہا کہ قرض کے بوجھ کو ہٹانے کیلئے حورالنساء نے 56 سالہ شخص سے کم عمر لڑکی کی شادی کردی ۔ جبکہ عبداللطیف پارمبن نے شادی کے بعد لڑکی کو بنڈلہ گوڑہ میں واقع ریتاج لاج میں رکھا ۔ پولیس نے بتایا کہ شادی کرنے والا شخص قاضی کو فرضی دستاویزات فراہم کئے اور قاضی بدیع الدین قادری جو ملک پیٹ ڈیویژن علاقہ کا قاضی ہونے کے باوجود بھی پرانے شہر میں لڑکی کی شادی کرنے میں مدد کی ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ملزمین کے خلاف عصمت ریزی ، دھوکہ دہی ، مجرمانہ سازش ، پوکسو ایکٹ کے علاوہ چائیلڈ میریج ایکٹ بھی نافذ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا ہے ۔