کنساس: 42 سال قانون کی گرفت سے بچنے والا قاتل آخر کار گرفتار

   

کولوراڈو : امریکہ میں ایک سفاک قاتل چار دہوں تک قانون کی گرفت سے بچا رہا، تاہم کب تک،42 سال بعد وہ قانون کی گرفت میں آگیا۔امریکی میڈیا نے جرم کا ایک کیس رپورٹ کیا ہے، 1979 میں ایک خاتون کیساتھ زیادتی اور قتل میں ملوث شخص ڈی این اے ڈیٹا بیس کی مدد سے آخر کار 42 سال بعد پکڑا گیا۔ 64 سالہ جیمز ہرمن ڈائی کو امریکی ریاست کنساس میں گرفتار کیا گیا، جس کا تعلق 1979 میں ریاست کولوراڈو میں ایک خاتون کے قتل سے ثابت ہو گیا ہے، جیمز ہرمن ڈائی کو ایولن کے ڈے نامی خاتون کے قتل پر گرفتار کیا گیا ہے، جنھیں نومبر 1979 میں اس نے زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔اس کیس کو کولوراڈوکولڈ کیس کا نام دیا گیا تھا۔پولیس نے کئی بار کوشش کی مجرم تک پہنچنے کی لیکن ناکام رہی۔قتل کے وقت خاتون کی عمر 29 سال تھی، وہ ایک مقامی کالج میں رات کے اوقات میں کام کرتی تھیں، انھیں آخری بار چند طلبہ نے 26 نومبر 1979 کی رات 10 بجے کیمپس کی پارکنگ میں دیکھا تھا، لیکن گھر نہ پہنچنے پر اگلے روز ان کے شوہر نے گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی۔رپورٹ کے مطابق اسی دن شام 5:30بجے خاتون کے دفتری ساتھیوں کو ان کی گاڑی ملی جس کے پچھلے حصے میں ان کی نعش پڑی تھی، خاتون کو اوور کوٹ کے بیلٹ سے گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔پولیس حکام نے واردات کی جگہ سے شواہد جمع کیے تھے لیکن ان کی بنیاد پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی تھی، تاہم 40 سال بعد اس کیس میں گزشتہ برس ایک پرائیویٹ جاسوس نے ڈی این اے شواہد جمع کر کے انھیں کمبائنڈ ڈی این اے انڈیکس سسٹم سے ملانے کا مطالبہ کیا۔واضح رہیکہ فارنسک اہلکاروں کو مقتولہ کے کوٹ کی آستین اور ان کے ناخنوں سے ڈی این اے نمونہ حاصل ہوا تھا، آخر کار پرائیویٹ سراغ رساں کے مطالبے پر اسے ڈیٹا بیس میں چیک کیا گیا اور اس طرح مارچ میں وہ قانون کی گرفت میں آ گیا۔