کنڈلہ کویاکا آئی ٹی پارک شمالی حیدرآباد کی ترقی کیلئے گیٹ وے ثابت ہوگا

   

مستقبل میں ہزاروں طلبہ کو روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے: کے ٹی آر
حیدرآباد۔/17 فروری، ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد آئی ٹی کی ترقی میں حیدرآباد کو سارے ملک میں دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ آج کنڈلہ کویا میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد رکھا ۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ یہ آئی ٹی پارک شمالی حیدرآباد کی ترقی کیلئے گیٹ وے ثابت ہوگا یہ شروعات ہے عنقریب مزید ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ کنڈلہ کویا میں 6 لاکھ مربع فیٹ رقبہ پر یہ آئی ٹی پارک تعمیر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے 2001 میں ٹی آر ایس پارٹی تشکیل دی تھی تب کے سی آر تنہا تھے اور 14 سال کی جدوجہد میں علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے جس کی وجہ سے آج کنڈلہ کویا میں آئی ٹی پارک تعمیر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تائید ہو تو کچھ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ شمالی حیدرآباد میں 35 انجینئرنگ کالجس، 50 ٹریڈیشنل ڈگری کالجس ، 30 ایم بی اے کالجس کے علاوہ مزید کئی فارمیسی، میڈیکل، نرسنگ کالجس ہیں ہر سال 15 تا 20 ہزار نئے انجینئرس دستیاب ہورہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے چاروں اطراف آئی ٹی کمپنیوں کا جال پھیلانے کیلئے حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان گیٹ وے آئی ٹی پارکس کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے حیدرآباد کیلئے یہ ابتداء ہے۔ یہاں آئی ٹی سیکٹر کو پھیلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس علاقہ میں اچھی یونیورسٹیز موجود ہیں اور قریب میں ایم ایم ٹی ایس، قومی شاہراہیں، اربن پارکس دستیاب ہیں۔ اس علاقے کا روشن مستقبل ہونے کا دعویٰ کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے سات سال کے دوران 5 عالمی کمپنیوں کے علاوہ کئی قومی اور کارپوریٹ اداروں نے حیدرآباد میں سرمایہ کاری کی ہے جس میں ایپل ، گوگل، امیزان، فیس بک، میکرو سافٹ جیسی بڑی کمپنیوں نے حیدرآباد میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔ امیزان نے دنیا کا سب سے بڑا کیمپس حیدرآباد میں قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں ریاست تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا لفٹ اریگیشن پراجکٹ تلنگانہ میں موجود ہے جس کو صرف 3.5 سال میں مکمل کیا گیا ہے۔ کالیشورم سے گجویل تک پانی لانے کا اعزاز چیف منسٹر کے سی آر کو حاصل ہے۔ ن