کنگ کوٹھی کا نذری باغ محل جعلی دستاویزات کے ذریعہ 300 کروڑ میں فروخت

,

   

ممبئی کے نہاریکا انفراسٹرکچر کے دو سابق ملازمین نے کشمیر کے آئیریس ہاسپٹالیٹی کو یہ جائیداد فروخت کردیا ، مالکین لاعلم
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): ممبئی کی ایک تعمیراتی کمپنی نہاریکا انفراسٹرکچر سے علحدہ ہونے والے دو ملازمین پر جعلی دستاویزات کے استعمال کے ذریعہ نظام حیدرآباد کا ایک محل کشمیر کی عالیشان ہوٹلوں کے مالکین کو 300 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ نہاریکا انفراسٹرکچر کے ممبئی اور نوی ممبئی میں کئی بڑے رہائشی و کمرشیل پراجکٹس ہیں ۔ اس ادارہ نے سریش کمار اور سی رویندر کے خلاف ممبئی پولیس کے شعبہ معاشی جرائم میں ایک شکایت درج کروائی ہے ۔ جس میں حیدرآباد کے اس محل کو کشمیر میں واقع ائیریس ہاسپٹالیٹی کو فروخت کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ اس کشمیر ادارہ کے مالکین امیت آملہ اور ارجن آملہ ہیں ۔ نہاریکا انفراسٹرکچر نے حیدرگوڑہ میں کنگ کوٹھی کے نام سے معروف 100 سال قدیم نذری باغ محل کو نذری باغ پیالیس ٹرسٹ سے خریدا تھا ۔ لیکن جون میں جب نہاریکا انفراسٹرکچر کے ملازمین حیدرآباد کے دفتر رجسٹرار پہونچے انہیں پتہ چلا کہ محل کی ملکیت آئیریس ہاسپٹالیٹی کے نام منتقل کردی گئی ہے ۔ مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ائیریس ہاسپٹالیٹی نے رواں سال فروری میں نہاریکا انفراسٹرکچر کی ملازمت چھوڑنے والے دو افراد سریش کمار اور سی رویندر سے اس کی معاملت کی تھی ۔ چنانچہ ان کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے کے بعد پولیس اب دونوں کی تلاش میں ہے ۔ نہاریکا انفراسٹرکچر بھی تاحال آئیریس سے رابطہ نہیں کرسکی ہے ۔ باور کیا جاتا ہے کہ ماہرین سے رائے لینے کے بعد یہ مسئلہ ، قانونی راستہ سے نمٹا جائے گا ۔ ممبئی پولیس کے شعبہ انسداد معاشی جرائم نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سریش کمار اور رویندر نے حیدرآباد کے دفتر رجسٹرار میں جعلی دستاویزات داخل کرتے ہوئے یہ معاملت کی تھی ۔ پولیس کو شب ہے کہ حیدرآباد میں رہنے والے کسی شخص نے سریش کمار اور رویندر کی مدد کی تھی ۔ تاہم ایف آئی آر میں نام شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ نہاریکا انفراسٹرکچر کے ڈائرکٹرس نے کسی تبصرے سے انکار کردیا ۔ آئیریس کے دفتری ای بل ایڈریس پر روانہ کردہ ای میلس کا ہنوز کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ کنگ کوٹھی ، نظام حیدرآباد نواب میر عثمان علی خاں کی آخری شاہی و سرکاری رہائش گاہ تھی ۔ جہاں 1967 میں ان کا وصال ہوا تھا ۔ کنگ کوٹھی پر انگریزی زبان کے حروف ’’ کے کے ‘‘ منقش ہیں ۔ جو دراصل یہ پر شکوہ اور قابل رشک عمارت بنانے والے معمار کمال خاں کے نام سے موسوم ہے لیکن نظام حیدرآباد نے کمال خاں سے یہ عمارت حاصل کیا تھا ۔۔