کوارٹر فائنلز:آئی پی ایل سے قبل گھریلو کھلاڑیوں کوآخری موقع

   

احمدآباد : آئی پی ایل نیلامی سے قبل ہندوستانی ڈومیسٹک کھلاڑیوں کیلئے کل سے شروع ہونے والے سید مشتاق علی ٹرافی کے ناک آؤٹ مقابلے آخری موقع ہوں گے تاکہ وہ فروری میں ہونے والی نیلامی کیلئے اپنی دعویداری کو مضبوط کرسکے۔ کرناٹک جوکہ اپنے خطاب کا دفاع کرے گی لیکن اس کے ساتھ دیگر 7 ٹیمیں کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرچکی ہیں۔ کورونا کے بحران کی وجہ سے گھریلو سیزن تاخیر سے شروع ہوا ہے لیکن اس کے باوجود مقابلوں کا بغیر کسی رکاوٹ کے اہتمام گھریلو ٹورنمنٹ کے علاوہ آئی پی ایل کیلئے بھی خوش آئند ہے۔ پنجاب جس نے لیگ مرحلہ میں گروپ اے کے اپنے تمام 5 مقابلے اپنے نام کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے جبکہ کرناٹک نے بھی گروپ اے میں دوسری بہترین ٹیم کے ذریعہ ناک آؤٹ مرحلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ پنجاب اور کرناٹک دونوں کیلئے یہ مقابلہ اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ دونوں ہی ٹیمیں متوازن ہیں۔ دوسرے کوارٹر فائنل میں ٹاملناڈو کا مقابلہ جو کہ گذشتہ سیزن میں رنراپ تھی، ہماچل پردیش سے ہوگا جس نے گروپ سی سے ناک آؤٹ مرحلہ میں رسائی حاصل کی ہے۔ کرناٹک کیلئے اس کے بولروں نے کافی بہترین مظاہرہ کیا ہے حالانکہ اسے روی چندرن اشون اور یارکر کے ماہر ٹی نٹراجن اور آل راونڈر واشنگٹن سندر کی خدمات دستیاب نہیں ہے کیونکہ وہ آسٹریلیا میں قومی خدمات انجام دے رہے تھے۔ تیسرے کوارٹر فائنل میں ہریانہ کا مقابلہ بڑودا سے ہوگا جسے حالانکہ ہاردک اور پرنال پانڈیا کی خدمات دستیاب نہیں ہوئی ہے۔ ہاردک جنہوں نے ٹورنمنٹ نہیں کھیلا ہے جبکہ کرنال کو بھی والد کی موت کی وجہ سے ٹورنمنٹ درمیان میں چھوڑنا پڑا۔ ہریانہ کو اپنے اسپنرس کے شاندار فام کی وجہ سے سبقت حاصل ہے۔ چوتھے کوارٹر فائنل میں راجستھان جو کہ گروپ بی سے ناک آؤٹ میں رسائی حاصل کی ہے، اس کا مقابلہ بہار سے ہوگا لیکن اس مقابلہ میں راجستھان کو کامیابی کیلئے پسندیدہ موقف حاصل ہے۔ سید مشتاق علی ٹورنمنٹ کے ناک آؤٹ مقابلہ پہلے مرتبہ احمدآباد کے سردار پٹیل موتیرا اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے اور یہ بھی دیکھنا کافی دلچسپ ہوگا کہ انگلینڈ کے 2 ٹسٹ مقابلوں سے قبل یہاں کی وکٹ کس طرح کا برتاؤ کرتی ہے۔