حکومت کی کارکردگی سے غیر مطمئن، نامزد عہدوں پر نظر انداز کرنے سے قائدین ناراض
حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ جنا سمیتی (ٹی جے ایس) میں پارٹی سربراہ پروفیسر کودنڈا رام کے ایم ایل سی عہدہ پر جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ خود کودنڈا رام نے حکومت کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہ ہونے کا سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے نہ صرف سیاسی حلقوں کو چونکادیا ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ بلدی انتخابات میں کانگریس سے اتحاد کرنے کے معاملہ میں ہنوز کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے میں تعاون کرنے والی ٹی جے ایس پا رٹی کے قائدین 2 سال بعد حکومت کی کار کردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور حکومت کے رویے سے بھی ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ حال ہی میں منعقدہ ٹی جے ایس کے ریاستی سطح کے اجلاس میں گزشتہ دو برسوں میں کانگریس حکومت کی کارکردگی اور اتحادیوں کے ساتھ رویے کا تفصیلی جائزہ لیا گیاجس میں کئی قائدین نے کھل کر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد قائدین کا کہنا ہے کہ اگر یہی پالیسی برقرار رہی تو انہیں حکومت کے خلاف عوام کے ساتھ مل کر احتجاجی راستہ اختیار کرنا پڑسکتا ہے ۔ خاص طور پر پروفیسر کودنڈا رام کے ایم ایل سی عہدہ سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے پارٹی میں مایوسی کو مزید گہرا کردیا ۔ قائدین نے یاد دلایا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس نے ٹی جے ایس کو دو ایم ایل سی نشستیں اور چار نامزد عہدے اور بلدیاتی انتخابات میں ترجیح دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کودنڈا رام کو الاٹ کی گئی ایم ایل سی کی نشست تنازعہ کا شکار ہوگئی ۔ حلف برداری کے بعد عدالت کی جانب سے عہدہ منسوخ کئے جانے سے پارٹی حلقوں میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے ۔ اگرچہ کہ ریاستی کابینہ نے ایک بار پھر پروفیسر کودنڈا رام اور محمد اظہرالدین کے نام تجویز کرنے کا فیصلہ کیا تاہم گورنر کوٹہ کے تحت ایم ایل سی عہدوں کا معاملہ تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے باعث حلف برداری پر غیر یقینی برقرار ہے ۔ تلنگانہ جنا سمیتی کے قائدین کا کہنا ہے کہ بی آر ایس حکومت کے خلاف کانگریس کی حمایت میں جدوجہد کرنے والے ایک اہم قائد کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی قابل قبول نہیں۔ پارٹی قائدین کی یہ شکایت ہے کہ نامزد عہدوں کے بارے میں اب تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا اور نہ ہی بلدیاتی ۔ زیڈ پی ٹی سی ضلع پریشد صدرنشین اور میونسپل انتخابات میں اتحادی کے طور پر ان سے سنجیدہ بات چیت کی گئی ۔ دو سال سے ٹی جے ایس پارٹی اور ان کے قائدین کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ 2