کورونا، چیف منسٹر کے سی آر کے دفتر پرگتی بھون میں داخل

,

   

آفس کا ایک ملازم پازیٹیو، کے سی آر سخت احتیاطی نگرانی میں، عہدیداروں کو دفتر نہ آنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/6جون، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورونا کا بڑھتا قہر چیف منسٹر کے دفتر تک پہنچ چکا ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون کے ایک ملازم میں کورونا پازیٹیو پایا گیا جسکے بعد پرگتی بھون میں سنسنی دوڑ گئی۔ وزراء اور سرکاری عہدیداروں کو پابند کردیا گیا کہ وہ کچھ دن تک پرگتی بھون کا رُخ نہ کریں۔ اس طرح پرگتی بھون عملاً عہدیداروں، وزراء اور اہم شخصیتوں کیلئے بند کردیا گیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق میٹرو ریل بھون میں کام کرنے والے چیف منسٹر آفس کے ایک ملازم میں کورونا کی علامات پائی گئیں اور ٹسٹ کرنے پر نتیجہ پازیٹیو نکلا۔ اس ملازم کا لڑکا حال میں مہاراشٹرا سے حیدرآباد واپس ہوا تھا اور شبہ کیا جارہا ہے کہ فرزند کے ذریعہ والد کو کورونا وائرس منتقل ہوا۔ چیف منسٹر آفس کے ملازم میں کورونا پازیٹیو کی اطلاع سے پرگتی بھون میں سنسنی دوڑ گئی اور چیف منسٹر کے سی آر کو سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا اور اہم شخصیتوں، وزراء اور عہدیداروں سے چیف منسٹر کی ملاقاتوں کو روک دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تمام محکمہ جات کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چند دنوں تک چیف منسٹر آفس آنے کی زحمت نہ کریں۔ اس طرح آئندہ چند دنوں تک چیف منسٹر کا دفتر عملاً بند رہے گا۔ چیف منسٹر دفتر کے 30 ملازمین کے سیمپل چیسٹ ہاسپٹل روانہ کئے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر آفس میں برسرخدمت زیادہ تر ملازمین ریٹائرڈ اور سینئر سٹیزن زمرہ کے ہیں جنہیں مشیر یا پھر سکریٹریز کے طور پر مامور کیا گیا ۔ 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں کورونا کے خطرہ کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر آفس میں چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ خود چیف منسٹر بھی 60 سال سے تجاوز کرچکے ہیں۔ عہدیداروں نے زائد عمر کے افراد کو دفتر آنے سے روک دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مکمل پرگتی بھون اور ملازمین کو سنیٹائز کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کے مشیر اعلیٰ راجیو شرما جو سابق چیف سکریٹری ہیں وہ پرگتی بھون کے بجائے پولیوشن کنٹرول بورڈ کے دفتر سے کام کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں کسی اہم شخصیت کی قیامگاہ یا دفتر میں کورونا کے داخلے کا یہ پہلا معاملہ ہے اور چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ کے ملازم کا کورونا کا شکار ہونا عہدیداروں کیلئے بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔