کلکتہ،18مارچ(سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال کلینیکل اسٹبلشمنٹ ریگولیٹری کمیشن کے ممبران نے کلکتہ شہر کے سات بڑے پرائیوٹ اسپتالوں کا دورہ کرکے کورونا وائرس کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ کلکتہ شہر کے تمام سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ان کے یہاں کورونا وائرس کا کوئی مشتبہ مریض آتا ہے کہ تو انہیں فوری طور پر علاج شروع کردیں۔اسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس کیلئے علاحدہ وارڈبنائیں۔کمیشن کے چیرمین جسٹس ریٹائرڈ اشیم کمار بنرجی نے کہا کہ پرائیوٹ اسپتالوں کے جائزہ کامقصد کورونا سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کو دیکھنا ہے ۔اس وقت سرکاری اسپتال بیلیا گھاٹا آئی ڈی اسپتال میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کو رکھا جارہا ہے ۔اب تک یہاں پرائیوٹ اسپتالوں سے 70 مریضوں کو منتقل کیا گیا ہے ۔گزشتہ دنوں وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے پرائیوٹ اسپتالوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے یہاں بھی آئیسولیشن وارڈ کو تیار کریں۔اور کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کا علاج کرنے سے انکار نہ کریں۔اسپتالوں کا جائزہ لینے والی ٹیم ڈاکٹر مکھن لال شاہ اور میتری بنرجی بھی شامل تھیں۔انہوں نے کہا کہ جن سات اسپتالوں کا جائزہ لیا گیا ہے ان میں سے چار اسپتالوں میں تیاریاں اور انتظامات اطمینان بخش ہیں۔ہم نے ان اسپتالوں کو بہت سارے مشورے دئے ہیں۔بقیہ تین اسپتالوں سے کہا گیا ہے کہ اس ہفتے کے اخیر تک آئسولیشن وار ڈ کو تیار کرلیں۔انہوں نے کہا کہ مزیداسپتالوں کا جائز لیا جائے گا۔رابندر ناتھ ٹیگور انٹر نیشنل انسی ٹیوٹ کارڈک سائنس نے کہا کہ ان کے یہاں 5بستر کا آئسولیشن وارڈ تیار کیا گیا ہے ۔جہاں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔جب کہ اے ایم آر آئی اسپتال میں دو بیڈ کا ایسولیشن وارڈ کا تیار کیا گیا ہے ۔جب کہ اے ایم آرآئی کے دوسرے برانچ سالٹ لیک اور دھاکوریاں میں آئسوس لیشن وارڈ تیار کرلئے گئے ہیں۔فورٹس اسپتال نے کہا کہ اس نے بھی تیاری مکمل کرلی ہے ۔خیال رہے کہ کورونا کے ایک مریض کی بنگال میں تصدق ہوئی ہے ۔اور یہ بنگال میں پہلا مریض ہے ۔