ٹیکہ لینا ہر شخص کا اختیاری عمل، کورونا ٹسٹوں پر حکومت سے رپورٹ طلب
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی سے بعض افراد میں ری ایکشن کی شکایتوں کی سماعت سے انکار کیا ہے۔ کورونا ویکسین کے مضر اثرات سے تحفظ کے سلسلہ میں دائر کردہ 24 مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر عدالت نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہائی کورٹ کی جانب سے کسی طرح کی مداخلت درست نہیں ہے۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ ریاستی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ کورونا وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مزید اقدامات کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو ٹیکہ اندازی کا عمل جاری رکھنے دیجئے ۔ اگر کوئی ویکسین لینے سے انکار کرے تو اسے اس کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ ٹیکہ اندازی کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ عدالت نے کورونا وباء سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومت کے اقدامات کی ستائش کی ۔ تاہم اس رائے کا اظہار کیا کہ ریاست میں ٹسٹنگ لیابس کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دہلی میں روزانہ 40,000 کورونا ٹسٹ کئے جارہے ہیں تو پھر تلنگانہ جیسی بڑی ریاست میں روزانہ 50,000 ٹسٹ کافی کم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے بعد ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ عدالت نے 25 مفاد عامہ کی درحواستوں میں سے 19 کی یکسوئی کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکہ اندازی کا عمل جاری ہے ، لہذا عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔ درخواست گزاروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ منفی انداز کی درخواستیں داخل کرنے سے اعتراض کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے مفاد عامہ کی درخواستوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے ۔ عدالت نے 25 جنوری تا 10 فروری کورونا ٹسٹوں کی ضلع واری تفصیلات کے ساتھ حلفنامہ داخل کرنے حکومت کو ہدایت دی ۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرسادکو ہدایت دی گئی کہ وہ کورونا کی دوسری لہر اور برطانیہ سے واپس ہونے والے افراد میں یو کے اسٹرین کی موجودگی پر رپورٹ پیش کریں۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 25 فروری کو ہوگی۔