مجلس بلدیہ کو آخری رسومات کی انجام دہی میں دشواریاں ، شمشان گھاٹ کے علاقوں میں عوام خوفزدہ
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ اور اموات میں اضافہ کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لئے ایسی نعشوں کو ٹھکانے لگانے میں دشواری ہورہی ہے، جنہیں رشتہ داروں نے حاصل نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں کورونا سے فوت ہونے والے کئی مریضوں کے رشتہ داروں نے نعشوں کو حاصل نہیں کیا جس کے نتیجہ میں یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے اور مجلس بلدیہ کیلئے ایک چیلنج بنتا جارہا ہے ۔ قواعد کے مطابق ایسی نعشوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے مجلس بلدیہ حیدرآباد کو قدم اٹھانے پڑتے ہیں لیکن جس جگہ بلدیہ نعشوں کو ٹھکانہ لگانا چاہتی ہے ، وہاں کے مکینوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایرہ گڈہ شمشان گھاٹ میں گزشتہ ایک ہفتہ سے روزانہ تقریباً 20 تا 22 نعشوں کی بلدیہ کی جانب سے آخری رسومات انجام دی جارہی ہے۔ ابتداء میں یہ تعداد کم تھی لیکن کیسیس میں اضافہ کے بعد سے کورونا متاثرین کی نعشوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کاچی گوڑہ کے نمبولی اڈہ ، سکندرآباد کے بنسی لال پیٹ شمشان گھاٹ اور بالا پور کے ایک قبرستان کو نعشوں کی آخری رسومات کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ حکام نے آخری رسومات انجام دینے والے عملہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ آخری رسومات صحیح ڈھنگ سے انجام دی جائے تاکہ وائرس پھیلنے کا خطرہ باقی نہ رہے۔ سرکاری ہاسپٹلس کے علاوہ خانگی ہاسپٹلس میں فوت ہونے والے کورونا کے مریضوں کے بعض رشتہ داروں نے نعشوں کو حاصل کرنے سے انکار کردیا اور آخری رسومات کیلئے بلدیہ کو ذمہ داری سونپ دیں۔ اسی دوران بنسی لال پیٹ شمشان گھاٹ کے اطراف و اکناف کی آبادیوں کے تخلیہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ ہوا کے ذریعہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرہ کے سبب کئی خاندانوں نے اپنے مکانات عارضی طور پر خالی کردیئے ہیں اور دیگر مقامات منتقل ہوچکے ہیں۔ مقامی افراد نے لاوارث نعشوں کی آخری رسومات پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نعشوں کو سپرد آتش کرنے کے بعد ہوا کے ذریعہ وائرس آبادیوں تک پہنچ سکتا ہے ۔
