جکارتہ ۔2 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سب سے بڑی مسلم اکثریتی آبادی والے ملک انڈونیشیا سے اس سال کوئی شہری حج کرنے سعودی عرب نہیں جائے گا۔ یہ اعلان جکارتہ میں مذہبی امور کی قومی وزارت نے کیا۔ اس سال تقریباسوا دو لاکھ انڈونیشائی مسلمانوں کو حج کرنا تھا۔اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر دو لاکھ 20 ہزار سے زائد انڈونیشائی مردوں اور عورتوں کو مکہ جانا تھا۔ لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں برس حج کے لیے کوئی انڈونیشی شہری سعودی عرب نہیں جائے گا۔ ملکی وزارت برائے مذہبی امور کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر کیا ہے۔ یہ وبا دنیا بھر میں اب تک تقریبآ 62 لاکھ 75 ہزار انسانوں کے بیمار پڑ جانے اور تقریبآ تین لاکھ 76 ہزار کی موت کی وجہ بن چکی ہے۔کورونا وائرس کی وبا نے سعودی عرب کو بھی متاثر کیا ہے جہاں اب تک اس وائرس کے باعث لگنے والی بیماری کووِڈ انیس سے87 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 525 ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس عالمی وبا کی وجہ سے اس سال حج کی معمول کے مطابق ادائیگی بھی مشکوک ہو چکی ہے۔وسائل ہونے کی صورت میں زندگی میں ایک بار حج کرنا ہر مسلمان کے لیے لازمی ہوتا ہے اور یہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ مکہ میں حج کا اجتماع دنیا بھر میں انسانوں کے سب سے بڑے سالانہ اجتماعات میں سے ایک ہوتا ہے۔ رواں برس حج جولائی کے آخر میں کیا جانا ہے۔ لیکن ابھی تک ریاض میں سعودی حکومت نے یہ حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ آیا اس سال بھی معمول کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے کئی ملین مسلمانوں کے لیے حج کا اہتمام کیا جائے گا یا کورونا وائرس کی وجہ سے ایسا نہیں ہو گا۔