کورونا بحران ‘سرکاری آمدنی گھٹ گئی

   

1.45 لاکھ کروڑ کی آمدنی، 150 فیصد قرض، سی اے جی رپور ٹ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا بحران کی وجہ سے جہاں حکومت کی آمدنی گھٹ گئی ہے وہیں قرض کے بوجھ میں اضافہ ہوگیا ۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ تلنگانہ کو 31 مارچ سال 2020-21 تک مختلف ذرائع سے 1,45,599,95 کروڑ روپئے وصول ہوئے جبکہ حکومت نے 18 مارچ کو اسمبلی میں 2020-21 ترمیمی بجٹ کی تجاویز پیش کرکے 1,66,728,91 کروڑ کی توقع کا اظہار کیا تھا۔ امید کے مطابق حکومت کی 21 ہزار کروڑ سے زائد آمدنی گھٹنے کا رپورٹ میں انکشاف ہوا ۔ بالخصوص غیر ٹیکس آمدنی اور مرکزی ٹیکس حصہ میں کمی کی وجہ سے حکومت نے آمدنی کی جو توقع کی تھی وہ پوری نہ ہوسکی جبکہ ٹیکس آمدنی توقع کے مطابق رہی ہے۔ حکومت کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیں تو 48 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت نے 2020-21 میں 34 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی بجٹ میں تجاویز پیش کی تھی تاہم کورونا بحران اور لاک ڈاؤن سے متاثر معاشی نظام کو مستحکم کرنے 43,784 کروڑ قرض کا منصوبہ تیار کیا گیا تاہم 2020-21 کے دوران 45,688,79 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا۔ ریاست میں جہاں قرض کا بوجھ بڑھا ہے وہیں حکومت کی غیر ٹیکس آمدنی اور مرکز کے ٹیکس حصہ داری فنڈز اور گرانٹس کی اجرائی میں بڑی کمی ہوئی ۔ لیکن جہاں تک ٹیکس آمدنی کا معاملہ ہے حکومت کی توقع درست رہی ۔ حکومت نے 2020-21 میں 85,300 کروڑ کی آمدنی ہونے کی توقع کی تھی۔ کورونا میں ترمیم کرکے 76,195.65 کروڑ آمدنی کا اندازہ لگایا تھا۔ تاہم حکومت کی تقوع سے زیادہ 79,339,92 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔