کورونا بحران لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ

   

دال کی قیمتوں میں 70 فیصد ، انڈے ، گوشت اور مچھلیوں کی قیمتوں میں 11 فیصد قیمتیں بڑھ گئیں
حیدرآباد :۔ کورونا بحران سے غریب و متوسط طبقہ بہت زیادہ پریشان ہے ۔ دوسری طرف اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جو ان طبقات پر اضافی مالی بوجھ ثابت ہورہی ہے ۔ اس بحران کے دوران چھوٹی اور متوسط صنعتیں بند ہورہی ہیں ۔ چند صنعتیں و کمپنیاں کام کے دنوں کو کم کرتے ہوئے مزدوروں کو ملازمتوں سے علحدہ کررہی ہیں اس سے شرح بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان حالت میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونے سے ملازمتیں اور آمدنی سے محروم ہونے والے افراد کئی مشکلات و دشواریوں سے دوچار ہورہے ہیں ۔ گذشتہ سال معمول کے مطابق بارش ہوئی اور فصلوں کی پیداوار بھی بہتر ہوئی ہے ۔ لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے اس کا اثر تغذیہ بخش غذا پر پڑنے کا خطرہ ہے ۔ ریاستی و مرکزی حکومتوں کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کا وعدہ کیا جارہا ہے تاہم ملک کے مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کا ٹرانسپورٹ توقع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہونے کا تاجرین کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ کے معاملے میں ہر کسی کی اپنی اپنی رائے ہے مگر خوردنی تیل ، دالیں ، چاول ، ترکاری وغیرہ کی قیمتیں غریب و متوسط طبقہ کے لیے بہت بڑا بوجھ بن گئی ہے ۔ گذشتہ سال کورونا کی پہلی لہر سے خوردنی تیلوں کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ گذشتہ سال اپریل میں مختلف اقسام کے خوردنی تیل کی قیمت فی لیٹر 90 تا 100 روپئے تھی جو اب بڑھ کر 180 تا 200 روپئے کے درمیان ہوگئی ہے ۔ ماضی میں اتنی زیادہ قیمتوں میں کبھی اضافہ نہیں ہوا تھا ۔ دالوں کی قیمتوں میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران فی کیلو 30 تا 50 روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، راجستھان ، اترپردیش ، کرناٹک میں دالوں کی پیداوار ہوتی ہے ۔ دنیا بھر میں دالوں کی 25 فیصد پیداوار ہندوستان میں ہوتی ہے ۔ ایک ماہ میں انڈوں ، گوشت اور مچھلیوں کی قیمتوں میں 10.88 فیصد اور دال و اناج کی قیمتوں میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے غریب و متوسط طبقہ اور ملازمتوں سے بے روزگار افراد کا جینا مشکل ہوگیا ہے ۔ ماہرین نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ راشن کارڈ کے بغیر غریب عوام کو چاول اور دوسرے اناج مفت تقسیم کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی جن اشیاء کو دوسرے ممالک سے درآمد کرنا ہے اس کی پہلے سے منصوبہ بندی کرے تاکہ عارضی قلت پیدا ہونے سے جو قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اس کو روکا جاسکے ۔۔