نئی دہلی: کورونا کے وقت وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘آتم نربھر’ ہونے کی اپیل پر ملک میں کتنا عمل ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن سپریم کورٹ کے جج مجبوری میں ہی سہی لیکن ‘آتم نربھر’ ہونے لگے ہیں۔ کورونا وبا کے دوران سپریم کورٹ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شنوائی ہونے کے سبب جج کورٹ ماسٹر کو حکم لکھوانے کے بجائے خود ہی اپنا حکم ٹائپ کر رہے ہیں جس کا فائدہ انھیں خود نظر آنے لگا ہے ۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ کے تبصرے سے تو کم از کم یہی لگتا ہے ۔ جسٹس چندر چوڈ نے منگل کے روز ایک معاملے کی ویڈیو کانفرنسنگ میں شنوانی کے دوران اپنا تجربہ شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ورچول شنوائی کرتے ہوئے جو بھی حکم دیتے ہیں’ اسے خود ہی ٹائپ بھی کرتے ہیں۔ جسٹس چندرچوڈ نے کہا،‘ میں کورٹ ماسٹر کو حکم دینے کے بجائے اب خود لیپ ٹاپ پر حکم لکھتا ہوں کیونکہ یہ ڈکٹیشن کے مقابلے زیادہ آسان ہے ۔ لیپ ٹاپ پر اپنا خود کا حکم ٹائپ کرنا بہت اچھا ہے کیونکہ آرڈر بالکل سٹیک ہو جاتا ہے ’۔ انہوں نے کہا کہ اس کا ایک فائدہ اور ہے کہ حکم ٹائپ کرنے کے بعد ٹائپنگ کے سبب ہونے والی غلطیوں کو درست کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ میں مارچ کی 15 تاریخ سے کورونا کے سلسلے احتیاط برتی جانے لگی تھی اور کچھ دنوں تک تو محض دونوں فریقوں اور ان کے وکلاء کو ہی کورٹ روم میں شنوائی کے لیے جانے کی اجازت تھی۔ میڈیا اہلکاروں کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔ بعد ازاں قومی سطح پر نافذ لاک ڈاؤن کے دوران ویڈیو کانفرنسنگ سے شنوائی ہونے لگی جو ہنوز جاری ہے ۔ ایسے میں کورٹ ماسٹر موجود نہیں نہیں ہوتے ہیں۔
