قیمتوں میں اضافہ کے باوجود فروخت میں کوئی کمی نہیں ، محکمہ اکسائز نے جاریہ سال 20 ہزار کروڑ کی آمدنی کا تخمینہ تیار کیا
حیدرآباد :۔ حکومت کو محکمہ اکسائز سے زبردست آمدنی ہورہی ہے ۔ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن سے دوسرے محکمہ جات کی آمدنی گھٹی ہے ۔ مگر محکمہ اکسائز سے تقریبا 8 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے واضح رہے کہ جاریہ سال اپریل تک ریاست میں تمام وائن شاپس بند تھے بار اور کلبس بھی نہیں کھولے گئے ۔ 6 مئی سے وائن شاپس کھولے گئے ہیں ۔ بار اور کلبس کھولنے کی حکومت نے دو دن قبل منظوری دی ہے ۔ گدشتہ 4 تا 5 ماہ سے شراب کی فروخت صرف وائن شاپس سے ہی ہورہی ہے ۔ باوجود اس کے ریاست میں مئی ۔ جون ۔ جولائی اور اگست میں محکمہ اکسائز کو 7,907.88 کروڑ یعنی تقریبا 8 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ اوسطاً ماہانہ 2 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ آر ٹی اے قانون کے تحت جلگم سدھیر کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے تلنگانہ بریورجس کارپوریشن لمٹیڈ نے یہ بات بتائی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا بحران کے دوران بھی عوام نے ماہانہ 2 ہزار کروڑ روپئے کی شراب پی ہے ۔ ہر سال شراب کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہورہا ہے ۔ صرف سال 2017-18 ہر سال اکسائز کی آمدنی میں زبردست اضافہ ریکارڈ ہوا ہے ۔ جاریہ سال پہلے 5 ماہ کے دوران صرف چار ماہ میں ہی شراب فروخت ہوئی ہے ۔ جس میں حکومت کو 8 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے پہلے سال شراب سے 6,095.03 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ جس کا تقابلی جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ رواں سال صرف 4 ماہ کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ جاریہ سال محکمہ اکسائز نے 20 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا تخمینہ تیار کیا ہے ۔ بارس اور کلبس کھولنے کی حکومت نے منظوری دے دی ہے ۔ ایک دو دن میں وہ بھی پوری طرح کھل جائیں گے ۔ جس سے آمدنی میں مزید اضافہ ہونے کا محکمہ اکسائز امید کررہی ہے ۔۔