کورونا بحران کے دوران بیگم پیٹ ایرپورٹ کی سرگرمیاں بحال

   

آکسیجن ، ویکسین ، ادویات ، طبی آلات ، ایر ایمبولنس میں اہم خدمات
حیدرآباد :۔ کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ کورونا ویکسین ، آکسیجن ، طبی آلات ، ادویات کے حصول کے لیے جنگی خطوط پر کام کررہی ہے ۔ سال 2008 سے بیگم پیٹ ایرپورٹ سے تجارتی سرگرمیاں بند کردی گئی ہیں تاہم کورونا کے پیش نظر کورونا ویکسین ، ادویات کی درآمد ، برآمد کے لیے دوبارہ بیگم پیٹ ایرپورٹ کو کھول دیا گیا ہے ۔ ریاست میں کورونا کے کیس میں اضافہ ہونے آکسیجن کی قلت پیدا ہونے پر اڈیشہ سے جنگی جہازوں سے آکسیجن منگوانے کے لیے بیگم پیٹ ایرپورٹ کی سرگرمیاں بحالی کی گئی ہیں ۔ اتوار کو بیگم پیٹ ایرپورٹ سے آکسیجن ٹینکرس کو آئی اے ایف جہازوں کے ذریعہ بیگم پیٹ ایرپورٹ سے اڈیشہ کو روانہ کیا گیا جملہ 90 ٹن گنجائش کے 6 ٹینکرس کو اڈیشہ روانہ کیا گیا ۔ یہ ٹینکرس بھوبنیشور ایرپورٹ سے براہ سڑک انگول کو پہونچ گئے ۔ جہاں آکسیجن کی میلنگ ( بھرنے ) کے بعد وہاں سے تین دن میں براہ سڑک شہر حیدرآباد کو پہونچ گئے ۔ مزید چار ٹینکرس کو بھوبنیشور کو روانہ کیا گیا ہے ۔ آکسیجن کی سربراہی کے علاوہ کورونا متاثرین کو ضرورت کے مطابق ادویات کی منتقلی کے لیے حکومت کی جانب سے بیگم پیٹ ایرپورٹ کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش کی حکومت حیدرآباد کے ذریعہ ایرلفٹ کے ذریعہ ادویات روانہ کررہی ہے ۔ بہتر علاج کے لیے دوسرے ریاستوں سے کورونا مریض حیدرآباد میں علاج کرنے کے لیے ایر ایمبولنس کے ذریعہ بیگم پیٹ ایرپورٹ پہونچ رہے ہیں ۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں دوبارہ اپنے اپنے مقامات کو روانہ کرنے کے لیے بھی بیگم پیٹ ایرپورٹ اہم رول ادا کررہا ہے ۔ تقریبا 100 افراد پر مشتمل عملہ بیگم پیٹ ایرپورٹ پر خدمات انجام دے رہا ہے ۔۔