کورونا دور میں موبائل کی عادت سے بچوں کے برتاؤ میں بگاڑ

   

بعض بچوں کا ایک دن میں 12 گھنٹوں سے زائد موبائل کا استعمال نفسیاتی مسائل کا موجب: ماہرین

لکھنو / نئی دہلی : کورونا وائرس کی وباء کے سبب اسکولس زائد از پانچ ماہ سے بند ہے اور اب آن لائین کلاسیس نیا معمول بن رہا ہے ۔ وبائی مرض کے سبب تعلیمی ادارے بند ہے اور آن لائین کلاس کی شروعات پر حکام مجبور ہیں۔ یہ اپنی جگہ درست ہے لیکن معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے موبائیل کی لت میں مبتلا ہورہے ہیں۔ ایک تحقیقی جائزہ میں پتہ چلا ہے کہ بچے حالیہ عرصہ میں موبائیل سے اس طرح چمٹ گئے ہیں کہ انہیں کھانے کا تک ہوش نہیں رہتا۔ والدین توجہ دلائے تو وہ بپھر رہے ہیں۔ یہ واضح طور پر کم عمر بچوں کے برتاؤ میں منفی تبدیلی ہے۔ کنگ جارجس میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ ایک سینئر ماہر نفسیات نے کہا کہ ان کے پاس حالیہ عرصہ میں ایسے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں بچے چھوٹی چھوٹی بات پر چڑچڑاپن کا اظہار کر رہے ہیں، بھوک کے معاملہ میں ان کا اشتیاق ختم ہورہا ہے اور وہ سر درد اور آنکھوں کے مسائل کی شکایت بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی عالمی وباء ختم نہیں ہوئی ہے ، اس لئے ان کے لئے ایسے بچوں کے ساتھ کونسلنگ کے سیشن منعقد کرنا شائد مناسب نہیں۔ چنانچہ وہ صرف والدین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ممکنہ صورتحال سے کس طرح نمٹا جائے۔ پریاگ راج (الہ آباد) کے موتی لال نہرو ہاسپٹل سے وابستہ ماہرین نفسیات نے بھی ایسے معاملوں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا ہے جہاں والدین اپنے بچوں کے برتاؤ میں تبدیلی اور ان کو موبائل کی لت جیسے مسائل کے ساتھ رجوع ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر ایشنیا راج نے کہا کہ کئی مریضوں کو دیکھنے اور کونسلنگ کرنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بعض عوامل نے فیملی کے ربط ضبط پر منفی اثر بھی ڈالا ہے۔ بچے مسلسل گھر میں رہنے کے باوجود والدین یا دیگر افراد سے کم ہی بات کرتے ہیں۔ ڈاکٹر راج نے کہا کہ زیادہ تر معاملوں میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر فیملی ممبر نے اس وباء کے دوران اپنی خیالی دنیا بنالی ہے۔ وہ اپنے ہی سرگرمیوں میں مگن رہتا ہے۔ بعض بچوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ایک دن میں 12 گھنٹے سے زیادہ موبائل فون کا استعمال کر رہے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں نفسیاتی مسائل اور برتاؤ میں منفی تبدیلی پیدا ہورہے ہیں۔ نیز بچہ چڑچڑا ہورہا ہے ۔