بے قابو شوگرسے بلیک فنگس کا خطرہ، علاج کیلئے تین رکنی ماہرین کی کمیٹی
حیدرآباد۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والے ایسے مریض جن کی شوگر کی سطح قابو میں نہ ہو انہیں سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کورونا کے علاج کے دوران مریضوں کو اسٹورائیڈ اور دیگر ادویات دی جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں کورونا وائرس کا خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن انسان کی قوت مدافعت بری طرح گھٹ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر مریض کی شوگر کی سطح قابو سے باہر ہو تو ایسے مریضوں میں بلیک فنگس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شوگر کے ماہر ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے کئی مریضوں کا علاج کیا ہے جو کورونا سے صحت یاب تو ہوگئے لیکن ان کی شوگر 200 سے 400 کے درمیان رہی۔ یہ سلسلہ کم از کم ایک ماہ تک برقرار رہتاہے اور ان حالات میں بلیک فنگس باآسانی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ شہر کے ای این ٹی ہاسپٹل کو حکومت نے بلیک فنگس کے علاج کے مرکز میں تبدیل کیا لیکن وہاں بیڈس کی تعداد میں کمی کے باعث بلیک فنگس کے مریضوں کو گاندھی اور دیگر دواخانوں سے رجوع کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کارپوریٹ ہاسپٹلس سے سینکڑوں کی تعداد میں بلیک فنگس سے متاثرہ مریض رجوع ہوئے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد عوام کو شوگر لیول قابو میں رکھنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ اکثر یہ دیکھا گیاہے کہ صحت یاب ہوتے ہی عوام احتیاطی تدابیر سے بے پرواہ ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹرس نے کہا کہ صحت یابی کے باوجود شوگر کی سطح قابو میں آنے تک انسولین کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد مریض کی قوت مدافعت پر منفی اثر پڑتا ہے کیونکہ علاج کے دوران اسٹورائیڈ اور دیگر ایسی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جو نہ صرف شوگر بلکہ قوت مدافعت میں کمی کا سبب بنتی ہیں۔ اسی دوران ڈاکٹرس نے شوگر سے متاثرہ مریضوں کے کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد گھر میں ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ دوبارہ متاثر ہونے سے بچنے کیلئے ایسے مریضوں کو چند ماہ تک گھر میں بھی ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے۔ ماہرین نے کہا کہ بلیک فنگس سے بچاؤ کیلئے کورونا کے صحت یاب مریض کو کم از کم دو ماہ تک سخت احتیاط کرنی ہوگی۔ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر رمیش ریڈی نے کہا کہ بلیک فنگس اگرچہ متعدی مرض نہیں ہے لیکن وہ ایسے مریضوں پر اثر انداز ہوتا ہے جن کی قوت مدافعت کم ہو۔ حکومت نے بلیک فنگس علاج کے پروٹوکول کو قطعیت دینے کیلئے تین رکنی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔