کورونا سے فوت افراد کی نعشیں لینے سے بھی لواحقین کا گریز!

,

   

کیا ہم واقعی انسان ہی ہیں؟

حیدرآباد۔کورونا کے جو مریض ٹھیک ہوچکے ہیں ان کو گھر لے جانے سے رشتہ داروں کے گریز کی خبریں آرہی تھی لیکن اب شہر میں کورونا کے مخصوص دواخانوں کے مردہ خانوں میں کورونا سے فوت ہونے والوں کی نعشیں حاصل نہ کرنے کی شکایات مل رہی ہیں۔شہر کے گاندھی ہاسپٹل میں کورونا علاج کے دوران فوت مریضوں کی نعشوں کو حاصل کرنے سے گریز کیا جانے لگا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے کورونا مریضوں کی نعشوں کی تجہیز و تکفین کی جانے لگی ہے اور رشتہ داروں کی جانب سے تجہیز و تکفین میں شرکت سے اجتناب کیا جارہا ہے ۔ دواخانہ ذرائع کا کہناہے کہ کورونا سے صحت یاب مریضوں کو گھروںکو لیجانے سے گریز کرکے رشتہ داروں نے جو غیر انسانی حرکت کا ثبوت دیا ہے اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کورونا سے فوت افراد کو ان کے متوفی رشتہ داروں کی نعش کو حاصل کرنے کی بجائے انہیں لا وارث کی طرح چھوڑ دیا جانا ہے۔ دواخانہ میں برسر خدمات ملازمین نے بتایا کہ شہر میں کچھ لوگوں کی جانب سے لاوارث میتوں کی تدفین کے انتظامات کئے جا رہے ہیں اور بعض متوفیوں کے رشتہ دار ان کی خدمات حاصل کر رہے ہیں جو کورونا سے فوت ہونے والوں کی تجہیز و تکفین کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ دیگر دواخانو ںمیں جہاں کورونا مریضوں کا علاج کیا جا رہاہے وہاں فوت افراد کے رشتہ داروں کو فون پر مطلع کرنے کے بعد یہ فون بند کردیئے جا رہے ہیں اور جب متوفی کے پتہ اور دیگر تفصیلات کو متعلقہ پولیس اسٹیشن روانہ کیا جا رہاہے تو یہ بات سامنے آرہی ہے کہ رشتہ دار ان کی تجہیز و تکفین میں شرکت یا نعش حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔دونوں شہروں میں بعض تنظیموں کے نوجوانوں کی جانب سے کورونا سے فوت مریضوں کی تدفین کے انتظامات کے سبب مردہ خانوں میں جمع نعشوں کی تجہیز و تکفین ہونے لگی ہے بصورت دیگر حالات انتہائی سنگین ہونے کے علاوہ دواخانہ کی جانب سے لا وارث نعش قرار دے کر ان کی آخری رسومات انجام دیئے جانے کی نوبت آسکتی تھی ۔