پیرا میڈیکل اسٹاف بھی متاثر، ٹاملناڈو طبی عملہ کی ہلاکتوں میں سرفہرست
حیدرآباد : کورونا وائرس سے ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے متاثر ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے مطابق مارچ سے کورونا کے پھیلاؤ کے آغاز کے بعد ملک بھر میں کئی ڈاکٹرس جن میں خاص طور پر جنرل پریکٹس نرس ، فزیشن گیاناکالوجسٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ شامل ہیں، کورونا کا شکار ہوئے ۔ مارچ 2020 ء سے ایک اندازہ کے مطابق 3,000 ڈاکٹرس کورونا سے متاثر ہوئے جن میں سے 200 کی موت واقع ہوئی ۔ غیر علامتی مریضوں سے ملاقات اور ان کے علاج کے نتیجہ میں زیادہ تر ڈاکٹرس کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرس کی طویل ڈیوٹی ، آرام میں کمی اور تغذیہ بخش غذاؤں کی کمی کے نتیجہ میں کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے مطابق جن ڈاکٹرس نے پی پی ای کٹس اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کیں ، وہ وائرس سے بچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر نرسنگ ریڈی نے بتایا کہ ڈاکٹرس کی جانب سے احتیاط کے باوجود کئی افراد کورونا کا شکار ہوئے ۔ کورونا کے پھیلاؤ کے بعد ڈاکٹرس کی خدمات میں اضافہ ہوچکا ہے اور آرام کے لئے وقت کم ہے۔ کورونا سے فوت ہونے والے ڈاکٹرس کی سب سے زیادہ تعداد ٹاملناڈو میں رہی جہاں 43 ڈاکٹرس کورونا سے فوت ہوئے۔ مہاراشٹرا میں 23 ، گجرات میں 20 ، آندھراپردیش 11 اور تلنگانہ میں 5 ڈاکٹرس کورونا کا شکار ہوئے ۔ اب جبکہ ملک کے دیہی علاقوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات ہیں، لہذا اضلاع میں ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو چوکسی کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ شہری علاقوں میں طبی سہولتوں میں بہتری کے سبب ڈاکٹرس و پیرا میڈیکل اسٹاف کو ریکوری کے امکانات زیادہ ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں کورونا سے متاثر ہونے کی صورت میں ڈاکٹرس کو علاج کے لئے حیدرآباد منتقل ہونا پڑے گا ۔ میڈیکل اسوسی ایشن نے ڈاکٹرس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مریضوں کے علاج کے سلسلہ میں ہر ممکن احتیاط سے کام لیں۔