نئی دہلی :ہندوستان میں کورونا بحران کے درمیان آکسیجن کی تقسیم کو بہتر بنانے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ 12 رکنی ٹاسک فورس ضروری دواوں کی دستیابی اور کووڈ سے نمٹنے کی مستقبل کی تیاریوں پر بھی مشورہ دے گا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکز سے مل رہے آکسیجن پر ریاستوں کی جوابدہی طے کرنے کی بھی ضرورت بتائی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ریاستوں کی طلب اور وہاں کے نظامِ تقسیم کے اندازہ کیلئے ہر ریاست کا آکسیجن آڈٹ کروایا جائے گا۔عدالت کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر ریاست کی آکسیجن کی ضرورت کا اندازہ جس طریقے سے کیا جا رہا ہے، وہ سائنسی نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا آکسیجن کو ریاستوں تک پہنچانے سے لے کر ریاست کے اندر آکسیجن کی تقسیم کے نظام میں خامیاں ہیں۔ اسی وجہ سے ضرورت مندوں تک آکسیجن نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے آج جاری حکم میں 12 رکنی نیشنل ٹاسک فورس کی تشکیل کے بارے میں بتایا۔ اس ٹاسک فورس کے کنوینر کابینہ سکریٹری یا ان کی طرف سے نامزد افسر ہوں گے۔ مرکزی صحت سکریٹری بھی اس کے رکن ہوں گے۔ ملک کے مشہور و معروف ڈاکٹروں کو ٹاسک فورس میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ڈاکٹر بھبتوش بسواس، ڈاکٹر دیویندر سنگھ رانا، ڈاکٹر دیوی پرساد شیٹی، ڈاکٹر گگن دیپ کنگ، ڈاکٹر جے وی پیٹر، ڈاکٹر نرین تریہن، ڈاکٹر راہل پنڈت، ڈاکٹر سومتر راوت، ڈاکٹر شیو کمار سرین اور ڈاکٹر ضریر ایف اڈاواڈیا شامل ہیں۔عدالت عظمیٰ نے اس ٹاسک فورس کی تشکیل کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ملک اس وقت غیر معمولی انسانی مسئلہ سے نبرد آزما ہے۔