اپوزیشن جماعتوں سے متحد ہوکر میدان میں اترنے کی اپیل
ممبئی :شیو سینا کا ترجمان اخبار ’سامنا ‘نے اپنے اداریہ میں کانگریس کی قیادت کی حمایت کرتے ہوئے ملک کی حزب اختلاف کی پارٹیوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اداریہ میں یہ بھی تحریر ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ مایوس کن رہا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پانچ اسمبلیوں میں سے تین اسمبلیوں میں جو وزیر اعلی بنے ہیں وہ سابق کانگریسی ہیں۔اداریہ میں تحریر ہے کہ مغربی بنگال میں ممتا بینرجی، آسام میں ہیمنت بسوا سرما اور پوڈوچری میں رنگا سوامی اپنی ریاستو کے وزیر اعلی بنے لیکن یہ تینوں سابق کانگریس ہیں۔ انہیں کانگریس پارٹی سے جانا پڑا لیکن انہوں نے دوسری پارٹی میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ ممتا بینرجی نے مودی اور شاہ کو شکست دیکر اقتدار حاصل کیا ہے۔سامنا میں تحریر ہے کے کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کچھ اہم مسائل اٹھائے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو ملی شکست کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اداریہ میں تحریر ہے کہ سونیا گاندھی نے اس اجلاس میں جو کہا ہے وہ بہت اہم ہیکہ پارٹی میں ضروری اصلاحات کی ضرورت ہے اور کیونکہ سونیا گاندھی پارٹی کی قائد ہیں اس لئیان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔سامنا میں تحریر ہے کہ کبھی پوری کانگریس جدو جہد کر تی تھی ،آج راہول گاندھی اکیلے نظر آتے ہیں ۔ ان کے خلاف بہت کچھ کہا جاتاہے لیکن وہ اپنے معاملات اور موقف پر مضبوطی سے عمل کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے جو بھی مسائل اٹھائے گئے ان کی حکومت نے تنقید کی لیکن آخر میں حکومت کوبھی ان کی بات کو ماننا پڑا۔ سامنا میں لکھا ہیکہ آج کی تاریخ میں راہول گاندھی کانگریس کے کمانڈر ہیں اور ان ذریعہ کئے گئیحملہ نشانہ پررہتے ہیں۔سامنا میں آگے تحریر ہے کہ بیروزگاری، معاشی بحران، مہنگائی، کورونا سے مرنے والوں کی نعشو ں انبار کی وجہ سے مر کزی حکومت کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے ایسے میں ملک کی حزب اختلاف کی تمام پارٹیوں کو ٹویٹر سے اتر کر میدان میں آنے کی ضرورت ہے اور میدان میں اتر نے کا مطلب کورونا کے دور میں بھیڑ جمع کرنا نہیں بلکہ حکومت سے سوال پوچھ کر بد انتظامی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ یہ سب کو کرنا ہوگا اور کانگریس کو اس کام میں سب سے آ گے آنے کی ضرورت ہے ۔ملک میں کورونا کی دوسری لہر کا قہر جاری ہے ۔ بیشتر ریاستوں میں نہ صرف مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ اموات بھی ہورہی ہیں ۔ کئی بڑے ہاسپٹلس میں آکسیجن کی بروقت سربراہی نہ ہونے کی وجہ سے کئی مریض موت کا شکار ہوگئے ہیں جس کو لے کر اپوزیشن اور عوام کی جانب سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، یہاں تک کہ آخری رسومات کیلئے بھی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔