کورونا سے نمٹنے کے حکومت کے طریقہ کار سے گورنر مطمئن نہیں

,

   

میرے کئی خطوط کا مناسب جواب نہیں دیاگیا، سوندرا راجن کو نمس کے دورہ سے روکنے کی کوشش

حیدرآباد ۔10۔ جون(سیاست نیوز) گورنر ٹی سوندرا راجن نے کورونا صورتحال سے نمٹنے کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کے رویہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے حکومت سے بعض تفصیلات طلب کی تھیں جس کا کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔ ایک انگریزی روزنامہ کو خصوصی انٹرویو میں گورنر سوندرا راجن نے کہا کہ کورونا کی ریاست میں صورتحال پر میں اپنی تشویش اور تجاویز سے حکومت کو واقف کروا رہی ہوں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران میں نے کئی مکتوب روانہ کئے لیکن حکومت کا ردعمل باعث اطمینان نہیں ہے ۔ گورنر نے حکومت سے کورونا سے نمٹنے سے متعلق اطلاعات روانہ کرنے کی خواہش کی تھی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ گورنر نے کورونا سے متاثر ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹاف کی حوصلہ افزائی کے لئے نمس کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو محکمہ صحت نے انہیں نمس جانے سے روکنے کی کوشش کی ۔ گورنر نے چیف منسٹر کو کئی مکتوب روانہ کئے جس میں کورونا سے نمٹنے کے لئے مرکزی حکومت کی گائیڈلائینس پر عمل کرنے ، ٹسٹوں میں اضافہ اور کورونا کیسیس اور اموات کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئیں لیکن حکومت کی جانب سے اطمینان بخش جواب نہیں آیا ۔ گورنر نے افسوس کا اظہار کیا کہ بنیادی معلومات کی فراہمی کے معاملہ میں بھی حکومت کا رویہ ذمہ دارانہ نہیں ہے ۔ کورونا کیسیس اور اموات کے بارے میں گورنر کو وہی معلومات فراہم کی گئیں جو روزانہ میڈیا کو جاری کی جارہی ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا روزانہ تفصیلات حاصل ہورہی تھیں ، گورنر نے قہقہ لگایا اور کہا کہ مجھے بھی روزانہ شام میں ہیلت ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کووڈ۔19 بلیٹن مل رہا ہے ۔ گورنر کے خیال میں حکومت کو ان کے خطوط کے بارے میں ذمہ دارانہ رول اختیار کرنا چاہئے ۔ گورنر نے کہا کہ مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ابھی بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب حکومت کے رویہ میں تبدیلی آئے گی۔ گورنر نے کہا کہ وہ عوام اور میڈیکل پروفیشنلس کے حالات پر خاموش نہیں رہ سکتی تھیں لیکن انہوں نے نمس کا دورہ کرتے ہوئے ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹاف سے ملاقات کا فیصلہ کیا ۔ محکمہ صحت اور نمس کے حکام گورنر کے دورہ کے خلاف تھے۔