حکومت پر تنقید سے کے سی آر ناراض،گورنر کارول محض سفارشی ہونا چاہیئے
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا سے نمٹنے کے مسئلہ پر گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان اختلافات عیاں ہوچکے ہیں۔ گورنر نے کورونا سے نمٹنے کے ریاستی حکومت کے طریقہ کار کو بالواسطہ طور پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ حکومت کی مرضی کے بغیر گورنر نے نہ صرف نمس کا دورہ کیا بلکہ طبی شعبہ کے ماہرین کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مشاورت کرتے ہوئے کورونا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ گورنر نے ایک سے زائد مرتبہ حکومت کے رویہ کی یہ کہتے ہوئے شکایت کی کہ انہیں موجودہ صورتحال کے بارے میں حقائق سے لاعلم رکھا گیا ہے۔ حکومت کو لکھے گئے مکتوبات کا مناسب جواب تک نہیں دیا جاتا۔ کورونا کیسس اور اموات کے بارے میں تفصیلات پوچھنے پر انہیں ہیلت ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بلیٹن بھیجا جارہا ہے۔ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے تلنگانہ میں کورونا ٹسٹ کی تعداد میں اضافہ کی کھل کی وکالت کی۔ گورنر کے موقف کے بعد اپوزیشن کو کورونا کے مسئلہ پر کے سی آر حکومت کو گھیرنے کا موقع مل گیا اور گورنر کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتیں حکومت پر تنقیدیں کرنے لگیں۔ اس صورتحال سے حکومت ناراض دکھائی دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کو راست طور پر حکومت نے اپنی ناراضگی سے واقف نہیں کرایا تاہم گورنر کے مشیروں تک عہدیداروں کے ذریعہ یہ بات پہنچائی گئی کہ انہیں کھل کر حکومت پر نکتہ چینی سے گریز کرنا چاہیئے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے بعض وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے دوران گورنر کے رویہ پر ناراضگی جتائی۔ گورنر نے تعلیم اور صحت کے موضوعات پر چیف منسٹر کے دفتر کو اطلاع دیئے بغیر جائزہ اجلاس منعقد کئے ہیں۔ اس کے علاوہ نمس کا دورہ بھی کیا۔
چیف منسٹر دفتر کا خیال ہے کہ ہاسپٹل کا دورہ ڈاکٹرس کی حوصلہ افزائی کے اعتبار سے ٹھیک ہے لیکن گورنر نے صورتحال سے نمٹنے کے بارے میں جو ریمارک کئے اس کی ضرورت نہیں تھی۔ گورنر کے ریمارک سے اپوزیشن کو اخلاقی مدد ملی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر سوندرا راجن تلنگانہ کی گورنر کی حیثیت سے تقرر سے قبل ٹاملناڈو میں بی جے پی کی ریاستی صدر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے جب نمس کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو محکمہ ہیلت اور پولیس کے عہدیداروں نے دورہ کی مخالفت کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر گورنر کو دورہ سے گریز کرنا چاہیئے۔ تاہم سوندرا راجن نے مخالفت کی پرواہ کئے بغیر دورہ کیا۔ انہوں نے سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکولر بیالوجی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر راکیش مشرا اور دیگر ماہرین سے کورونا کی صورتحال اور تلنگانہ میں ٹسٹ کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ چیف منسٹر آفس کا کہنا ہے کہ گورنر اپنی حکومت پر نکتہ چینی نہیں کرسکتیں کیونکہ دستوری اعتبار سے وہ حکومت کی سربراہ ہیں۔ گورنر کا رول سفارشی نوعیت کا ہوتا ہے جب کبھی وہ عہدیداروں سے مشاورت کرنا چاہیں تو انہیں حکومت کو اطلاع دینی چاہیئے اور یہی راج بھون کی روایت ہے۔ گورنر سوندرا راجن نے اس روایت کی خلاف ورزی کی ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران گورنر نے مختلف وائس چانسلرس اور ماہرین تعلیم سے چانسلر کی حیثیت سے مشاورت کی ہے۔ امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں گورنر کی وائس چانسلرس کو ہدایات پر حکومت کو اعتراض ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سوندرا راجن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔