ٹسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا ٹسٹوں کے معاملہ میں تلنگانہ حکومت کے رویہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے آج کورونا کی صورتحال پر مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت نے ابتداء میں کورونا ٹسٹوں کی تعداد میں حکومت کی ہدایت پر اضافہ کیا تھا لیکن بعد میں دوبارہ ٹسٹوں کی تعداد میں کمی کردی گئی ۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ روزانہ 50,000 کورونا ٹسٹ کئے جائیں گے اور مستقبل قریب میں ٹسٹوں کی تعداد کو بڑھاکر ایک لاکھ کیا جائے ۔ عدالت نے کہا کہ تلنگانہ میں کورونا کے دوسرے مرحلہ کے آغاز کا امکان ہے، ایسے میں حکومت کی جانب سے کورونا کی روک تھام کیلئے سماجی فاصلہ اور ماسک کے استعمال جیسی شرائط پر عمل آوری میں کوتاہی کی جارہی ہے ۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ کووڈ قواعد پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت سرینواس راؤ نے عدالت سے درخواست کی کہ کووڈ قواعد پر عمل آوری کے سلسلہ میں عوام کو ہدایات جاری کریں۔ عدالت نے کورونا علاج کے نام پر خانگی دواخانوں کی لوٹ پر افسوس کا اظہار کیا ۔ عدالت نے کہا کہ زائد بل وصول کرنے والے خانگی دواخانوں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات سے واقف کرایا جائے۔ ضلع سطح کے دواخانوں میں آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کے کڈس فراہم کئے جائے۔ عدالت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکشن پلان کی عدم تیاری پر ناراضگی جتائی ۔ عدالت نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کورونا پر قابو پانے سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تمام تفصیلات کے ساتھ 24 نومبر سے قبل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 26 نومبر کو مقرر کی گئی۔