کورونا سے ہونے والی اموات میں ضعیف افراد کی تعداد زیادہ

   

مختلف امراض کا شکار افراد کے اس وباء سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ
مرغن غذاؤں سے پرہیز اور طرز زندگی میں تبدیلی لانے ماہرین کا مشورہ
حیدرآباد۔20مئی (سیاست نیوز) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں ضعیف العمر افراد کی شرح زیادہ ہے اور نوجوانوں اور 50 سال سے کم عمر افراد کے صحت یاب ہونے کی شرح زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ہندستان میں کورونا وائرس کے سبب فوت ہونے والوں کی اموات میں 50 فیصد سے زائد 60 سال سے کم عمر مریض ہیں اور نوجوانوں کو یہ وائرس متاثر کرنے لگا ہے۔ محققین اور ماہرین کا کہناہے کہ ہندستانی طرز زندگی کے سبب ہندستان میں کوروناو ائرس کے متاثرین دنیاسے مختلف ہیں۔ ہندستانی مسلمانوں کا طرز زندگی دیگر شہریوں سے بلکل علحدہ ہے اور ان مسلم نوجوانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں جو کہ تناؤ‘ بے خوابی ‘ ذیابیطس امراض قلب کے علاوہ خون میں چربی پایا جانا کورونا وائرس کے متاثرین کے لئے شدید خطرہ کا باعث بن رہا ہے اور مسلم نوجوانوں میں پائی جانے والی یہ عام شکایات کی بنیادی وجہ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ بے خوابی اور رات دیر گئے تک سگریٹ نوشی اور دیگر مصروفیات ان کی صحت کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتی ہیںبلکہ بن رہی ہیں لیکن اس کے باوجود طرز زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لایا جانا ان کے لئے خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد ہو یا ملک کے دیگر شہروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملک بھر میں مسلم علاقوں میں رات دیر گئے تجارتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور ان تجارتی سرگرمیوں میں اشیائے خورد و نوش کی فروخت کے علاوہ ایسی ہی سرگرمیا ں ہوا کرتی ہیں جو کہ صحت کے لئے نقصاندہ ہیں۔ رات دیر گئے تک جاگنے اور صبح کے وقت سونے کے سلسلہ میں واضح احکام کے باوجود مسلمان کے بر خلاف زندگی گذارنے کے مرتکب بن رہے ہیں اور موجودہ حالات میں کورونا وائرس کے سبب زندگی سے ہاتھ دھونے والے ہندستانیوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہی بتائی جا رہی کہ ہندستانیوں کے طرز زندگی میں تبدیلی نہ لائے جانے کے سبب یہ صورتحال دیکھنی پڑرہی ہے۔ مسلم نوجوانوں اور مسلمانوں کو ان حالات کا جائزہ لینے کے بعدفوری اپنے طھرز زندگی میں تبدیلی لانی چاہئے اور بے خوابی و کم خوابی سے بچنے کے علاوہ مرغن غذاؤں سے اجتناب کا سلسلہ شروع کیاجانا ناگزیر ہو چکا ہے اسی طرح تناؤ سے محفوظ رہنے کے ساتھ ورزش پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی صحتیابی اسی شرط پر ممکن ہے

جب اس کانظام مدافعت مستحکم اور وائرس کا مقابلہ کرنے کا اہل ہو اگر کسی مریض کو تناؤ ‘ ذیابیطس ‘ کولیسٹرول کی شکایت ہو تو ایسی صورت میں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنا دشوار ہوتا جا تا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ مسلمانوں کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے نظام قوت مدافعت کو مستحکم بنانے کے لئے جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت بہتر ہوسکے ۔ مسلمانو ںکی غذائی عادات میں بھی فوری اثر کے ساتھ تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ انہیں ورزش پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حرکیاتی مصروفیات اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔کورونا وائرس کے مصدقہ مریض جو دنیا بھر میں فوت ہو رہے ہیں ان میں 60 سال سے زائد عمر کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ہندستان کی مختلف ریاستوں میں ہونے والی اموات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جا رہاہے کہ ہندستان میں ہونے والی اموات میں 50 فیصد سے زائد مریضوں کی عمر 60 سال سے کم ہے جس کے سبب ہندستانی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور اب تک کی تحقیق میں جو وجوہات سامنے آئی ہیں ان میں بے قاعدگی کے ساتھ گذاری جانے والی زندگی کے علاوہ مرغن غذائیں اورذہنی تناؤ میں مبتلاء ہونا ریکارڈ کی گئی ہیں۔