جسٹس ونودکمار کا حکومت سے سوال، اراضی مالکین کو نوٹس کے بغیر معائنہ کی مخالفت
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے میڑچل ملکاجگیری ضلع کے دیوارا یمجال میں مندر کی اراضی پر ناجائز قبضوں کی جانچ میں حکومت کی غیر معمولی دلچسپی پر سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مندر کی اراضی کی تحقیقات میں اس قدر عجلت کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت اور عہدیدار تلنگانہ میں کورونا کی ابتر صورتحال پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ ایک طرف کورونا کی صورتحال ابتر ہے اس پر توجہ دینے کے بجائے عہدیدار ایک اراضی کے معاملہ میں دلچسپی دکھارہے ہیں۔ عدالت نے حکومت اور 4 آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ پلاٹ مالکین کی اجازت کے بغیر ان کی اراضیات میں مداخلت نہ کریں۔ حکومت کو ہدایت دی گئی کہ وہ اراضیات کے معائنہ سے قبل قانونی طریقہ کار کے مطابق پلاٹ مالکین کو نوٹس دیں اور ان سے جواب طلب کریں۔ عدالت نے کہا کہ اراضی مالکین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے۔ جسٹس ٹی ونود کمار نے بعض اراضی مالکین کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی اور اس معاملہ میں حکومت کی عجلت اور تیزی پر شبہات کا اظہار کیا۔ ملکاجگیری کے دیورا یمجال میں سیتا رام سوامی مندر کی اراضی پر سابق وزیر راجندر کی جانب سے قبضہ کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت نے تحقیقات کیلئے 4 آئی اے ایس عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم مندر کے تحت موجود دیگر اراضیات کا معائنہ کررہی ہے جس پر اراضی کے مالکین نے اعتراض کیا۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ عہدیدار ان کی اراضیات میں غیر قانونی طور پر داخل ہورہے ہیں جبکہ انہیں کوئی نوٹس تک نہیں دی گئی۔ جسٹس ٹی ونود کمار نے کہا کہ حکومت نے 2 مئی کو اخباری رپورٹ کی بنیاد پر 3 مئی کو آئی اے ایس عہدیداروں کی چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ اس کمیٹی نے تشکیل کے فوری بعد معائنہ کا کام شروع کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایک ایسے وقت جبکہ کورونا وباء عروج پر ہے اور عوام قبرستانوں میں جگہ کیلئے ترس رہے ہیں ایسے میں اراضی معاملہ میں عجلت اور تیزی کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس ونود کمار نے اپنا شخصی تجربہ بیان کیا کہ ان کے پڑوس میں ایک خاندان کو آخری رسومات کیلئے جی ایچ ایم سی کے ڈپٹی کمشنر کی مداخلت کے بعد اجازت حاصل ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیٹی کے قیام کے پس پردہ کچھ نہ کچھ معاملہ دکھائی دے رہا ہے۔ جج نے کہا کہ 3 ضلع کلکٹرس اور ایک آئی اے ایس عہدیدار کورونا سے نمٹنے کی اپنی ذمہ داریوں سے اراضی کے معاملہ میں مصروف ہوچکے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اراضی کا یہ معاملہ 1996 سے تنازعہ کا شکار ہے اور ناجائز قبضے راتوں رات نہیں ہوئے ہیں۔ اراضی مالکان کی جانب سے ایڈوکیٹ کے پارتک ریڈی نے ہاوز موشن کے تحت درخواست داخل کی جس کی سماعت کی گئی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کا مقصد مندر کی اراضی کا تحفظ کرنا ہے۔