ماہرین سے رپورٹ کی طلبی، ہاسپٹلس کو فنڈز کی اجرائی باقی، جگن حکومت کی تقلید کیلئے کے سی آر پر دباؤ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کے علاج کو آروگیہ سری کے تحت شامل کرنے کیلئے کے سی آر حکومت پر اپوزیشن اور عوام کی جانب سے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں کورونا کا شکار غریب اور متوسط طبقات علاج کے بھاری اخراجات اور خاص طور پر کارپوریٹ دواخانوں میں لاکھوں روپئے کی ادائیگی کے متحمل نہیں ہیں۔ ان حالات میں آروگیہ سری اسکیم کے تحت کورونا علاج کو شامل کرتے ہوئے سرکاری اور خانگی دواخانوں میں مفت علاج کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 20 مئی کو منعقد ہونے والے ریاستی کابینہ کے اجلاس میں اس مسئلہ پر غور کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کورونا علاج کو آروگیہ سری کے تحت شامل کرنے کے حق میں ہیں اور اس سلسلہ میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ آروگیہ سری اسکیم کے تحت موجودہ امراض کے مفت علاج سے خانگی دواخانے انکار کررہے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے خانگی دواخانوں کو علاج کی رقم ادا نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بڑے کارپوریٹ ہاسپٹلس کو حکومت کروڑہا روپئے باقی ہے۔ ایسے میں اگر کورونا علاج کو آروگیہ سری کے تحت شامل کیا جاتا ہے تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں رہے گی کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس غریب اور متوسط طبقات کا مفت علاج کریں گے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اس مسئلہ پر ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینا چاہتے ہیں جو مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی جس میں کورونا علاج کیلئے درکار فنڈز شامل ہوں گے۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکومت قطعی فیصلہ کرے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 20 مئی کے کابینی اجلاس میں آروگیہ سری کے تحت کورونا علاج کا مسئلہ زیر بحث آئے گا۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کی جگن موہن ریڈی حکومت نے آروگیہ سری کے تحت کورونا کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔ اتنا ہی نہیں حال ہی میں منظر عام پر آنے والے بلاک فنگس کے علاج کو بھی جگن موہن ریڈی نے آروگیہ سری کے تحت شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کے سی آر نے حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران ارکان کو یقین دلایا تھا کہ حکومت کورونا کے علاج کو آروگیہ سری کے تحت شامل کرنے کیلئے تیار ہے۔ اب جبکہ کورونا کی دوسری لہر نے غریب اور متوسط طبقات کی مالی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور علاج کیلئے عوام قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں لہذا حکومت پر دباؤ بڑھنے لگا ہے کہ جگن موہن ریڈی کی تقلید کرتے ہوئے کورونا علاج کو آروگیہ سری کے تحت شامل کریں۔